خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 170

$1953 170 خطبات محمود سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ جھوٹ بول کر لوگوں کو اشتعال دلایا جائے کہ اگر کوئی رسول کریم ﷺ کو آخری نبی نہ مانے تب بھی ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم اُس کو مسلمان مان لیں۔حالانکہ نہ گورنمنٹ نے ایسا کہا ہے اور نہ اس بناء پر اُس نے آج تک کسی کو کوئی سزا دی ہے کہ احمدیوں کو کیوں مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کافر کہنے میں وہ گھی طور پر آزاد ہیں۔اور اس سے نہ خواجہ ناظم الدین صاحب اُنہیں روک سکتے تھے اور نہ محمد علی صاحب روک سکتے ہیں۔سُہر وردی صاحب گھر میں بیٹھی کر یا بازاروں میں کھڑے ہو کر سارا دن ہمیں کافر کہتے رہیں۔تو نہ حکومت انہیں روک سکتی ہے نہ پارلیمنٹ انہیں روک سکتی ہے اور نہ کوئی اور طاقت انہیں روک سکتی ہے۔پس یہ کہنا کہ ہمیں کافر کہنے سے روکا جاتا ہے جھوٹ ہے۔اور یہ جھوٹ محض اس لیے بنایا گیا ہے تا کہ سیاسی چالوں کے ذریعہ سے لوگوں میں اشتعال پیدا کر کے انہیں اپنے ساتھ شامل کیا جائے اور حکومت کی مخالفت کی جائے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ وہ شورش جو بظاہر دبی ہوئی نظر آتی ہے اصل میں دبی نہیں۔یہ تو اللہ تعالی ہی کے اختیار میں ہے کہ وہ اس شورش کو دبادے یا اس کو اُبھرنے دے۔بہر حال سہروردی صاحب نے اس فتنہ کو پھر جگانے کی کوشش کی ہے اور جیسا کہ اُن کی تقریر سے ظاہر ہے انہوں نے جھوٹ بولنے سے بھی گریز نہیں کیا۔گویا وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو اس فتنہ کو ہوا دی جائے اور لوگوں کو ایک بار پھر اشتعال دلا کر فساد پر آمادہ کیا جائے۔لیکن انہیں یا درکھنا چاہیے کہ اس دنیا پر نہ لیگ حاکم ہے نہ خواجہ ناظم الدین صاحب حاکم تھے اور نہ مسٹرمحمدی علی حاکم ہیں۔اس دنیا پر زمین و آسمان کے خدا کی حکومت ہے اور جس کام کے کرنے کا خدا ارادہ کر چکا ہو اُس کو نہ سہر وردی صاحب روک سکتے ہیں اور نہ دنیا کی کوئی اور طاقت روک سکتی ہے۔اگر خدا ان فتنوں سے ہم کو بچانا چاہتا ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں وہ یقیناً ہم کو بچانا چاہتا ہے تو ی خواہ عارضی طور پر ہمیں بعض تکلیفیں بھی پہنچیں اور ہماری جماعت کے بعض افراد کو نقصان بھی ہو۔یقیناً آخری فتح ہماری ہی ہوگی۔اور چونکہ ہمارا نام لے کر حکومت کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے اس لیے میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان کی ان کوششوں کے بداثرات سے اللہ تعالیٰ حکومت کو بھی محفوظ رکھے گا۔کیونکہ وہ محض ہماری وجہ سے بدنام ہو رہی ہے۔حکومت کا سوائے اس کے اور کوئی