خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 46

$1953 46 40 8 خطبات محمود جو شخص فساد، دنگا اور لڑائی کی تلقین کرتا ہے اس میں یہ جرات بھی ہونی چاہیے کہ وہ اس کا اقرار کرے تشهد (فرموده 20 فروری 1953ء بمقام ربوہ) تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔پچھلے دنوں بعض اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ احراریوں کا کوئی جلسہ لاہور میں ہو رہا تھا کہ وہاں کسی احمدی کے مکان پر سے جلسہ میں پتھر پڑے۔نہایت تعجب بھی اور افسوس بھی ہوا کہ لاہور کی جماعت نے کوئی صحیح اطلاع ہمیں نہیں پہنچائی۔جماعت اور تنظیم کی غرض یہ ہوا کرتی ہے کہ تمام حصے جماعت کے واقعات سے باخبر ر ہیں۔اگر کسی جماعت کے کارکن اتنی ذمہ داری بھی محسوس نہیں کرتے کہ ایسے اہم معاملات میں مرکز کو صحیح حالات سے اطلاع دے دیں تو اور کسی بات کی اُن سے کیا اُمید ہوسکتی ہے۔پہلا کام تو یہی ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کی مرکز کو اطلاع دے دی جائے۔باقی کام کرنے بعد میں آتے ہیں۔مثلاً تم اپنے منہ میں لقمہ ڈالتے ہو تو سب سے پہلے تمہیں یہی چیز محسوس ہوتی ہے کہ تمہارا منہ کہتا ہے کہ لقمہ اُس میں آ گیا ہے۔اگر تمہارے منہ کی یہ حالت ہو کہ تم منہ میں لقمہ ڈالو تو تمہارا منہ تمہیں یہ نہ بتائے کہ اس میں لقمہ آپ ہے تو تم خود ہی سمجھ سکتے ہو کہ پھر کھانا بھی ہضم نہیں ہوسکتا۔