خطبات محمود (جلد 34) — Page 354
$1953 354 خطبات محمود سالوں میں بنائی گئی تھیں۔لیکن در حقیقت ان میں گنجائش ایک تہائی کی ہے۔پس پہلے تو میں اُن دوستوں کو جنہوں نے ربوہ میں مکانات بنائے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے وہ اپنے مکانوں کا ایک حصہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے ٹھہرانے کے لیے دیں۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ربوہ میں قریباً ایک ہزار مکان بن چکا ہے۔بعض لوگ پورا پورا مکان بھی جلسہ کے لیے دے سکتے ہیں کیونکہ وہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ربوہ نہیں آسکیں گے۔اور ی بعض لوگ ایسے ہیں جن کے مکانات میں 5, 5-16,6 کمرے ہیں۔اگر وہ خود دو تین کمروں میں گزارہ کر لیں تو جلسہ کے لیے سلسلہ کو دو تین کمرے دے سکتے ہیں۔لیکن اگر اوسط ایک ایک کمرہ فی مکان کی بھی لگالی جائے تو جلسہ کے لیے ہمیں ایک ہزار کمرے مل سکتے ہیں۔اور ایک کمرہ میں دس بارہ مہمان ٹھہرائے جاسکتے ہیں۔گویا پرائیویٹ مکانوں میں دس بارہ ہزار مہمانوں کی گنجائش ہو سکتی ہے ہے۔پھر مہمان خانہ بھی ہے، اسکول ہیں۔اسی طرح ضرورت کے موقع پر مساجد بھی استعمال میں لائی جاسکتی ہیں۔یہاں ربوہ میں ایسی سردی نہیں پڑتی جتنی سردی قادیان میں پڑتی تھی۔اکثر حصہ موسم سرما کا یونہی گزر جاتا ہے اور محسوس بھی نہیں ہوتا کہ سردیاں آگئی ہیں۔ہوا چلتی ہے تو سردی محسوس ہوتی ہے۔پھر جلسہ سالانہ کے موقع پر ہجوم زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے قدرتا سردی کم ہو جاتی ہے۔پس ان دنوں میں مساجد کو بھی رہائش کی جگہ بنایا جاسکتا ہے۔اگر ربوہ کی ساری مساجد کو لے لیا جائے تو دو ہزار مہمانوں کے لیے گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔پھر پرانے دفاتر خالی ہو گئے ہیں انہیں اور سلسلہ کی نئی عمارتوں کو ملا کر دو تین ہزار مہمانوں کے لیے گنجائش نکالی جاسکتی ہے۔کارکنوں کو چاہیے کہ وہ جلسہ کے دنوں میں تکلیف اٹھا کر بھی سلسلہ کی عمارتوں کا زیادہ سے زیادہ حصہ خالی کریں۔پھر جن لوگوں نے مکانات بنائے ہیں اگر اُن کے ہاں زیادہ مہمان نہیں ہے آ رہے۔بعض گھروں میں جلسہ سالانہ کے موقع پر بہت زیادہ مہمان آجاتے ہیں اور وہ پورا کمرہ جلسہ کے لیے نہیں دے سکتے۔اُن کو معذور سمجھا جائے۔کیونکہ وہ مہمان در حقیقت جلسہ کے مہمان ہی ہوتے ہیں۔اور بسا اوقات وہ لوگ دُہری تکلیف برداشت کرتے ہیں۔مہمانوں کو جگہ بھی کی دیتے ہیں اور کھانے کو بھی دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو مستی کرتے ہوئے باقی دوست اپنے مکانات کا زیادہ سے زیادہ حصہ جو وہ خالی کر سکیں جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے ٹھہرنے کے لیے دیں۔