خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 347

$1953 347 خطبات محمود ہم نے دیہاتی مبلغین رکھے تھے۔لڑ یچر تقسیم کرنے والے ہوں جن کا کام پمفلٹ تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ان کا مقابلہ صرف ہماری جماعت کر رہی ہے۔باقی سارے مسلمان حکومتوں ، بادشاہتوں اور وزارتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔صرف ہماری ہی جماعت ہے جس کی بادشاہت صرف اسلام ہے، جس کی حکومت صرف اسلام ہے۔جس کی عزت صرف اسلام ہے۔تعجب کی بات ہے کہ وہ مسلمان جو حکومتوں ، بادشاہتوں اور وزارتوں کے متلاشی ہیں اور رات دن انہی کے پیچھے مارے مارے پھر رہے ہیں ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ تم سیاسی انقلاب بر پر کرنا چاہتے ہو۔حالانکہ جہاں تک یہ سوال ذہنیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ہر ایک شخص انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے۔کیا ایک مزدور نہیں چاہتا کہ اُس کی حالت پہلے سے اچھی ہو ؟ کیا اس خواہش اور جذبہ کی بناء پر اُسے باغی قرار دیا جائے گا ؟ کیا اُسے حکومت کا تختہ اُلٹنے والا قرار دیا جائے گا ؟ کہ ایک ڈسپنسر نہیں چاہتا کہ اس کی تنخواہ بڑھ جائے اور ڈاکٹر اُس پر زیادہ بختی نہ کر سکیں ؟ اس قسم کا ذہنی انقلاب ہر ایک شخص میں ہوتا ہے۔پس ہمارا یہ خواہش کرنا کہ اسلام کی تعلیم دنیا میں پھیلے اور تمام ادیان پر غالب آجائے سیاسی انقلاب نہیں۔سیاسی انقلاب وہ ہوتا ہے جس کے لیے سیاسی تراکیب استعمال کی جائیں۔پس جہاں تک ہماری یہ خواہش ہے کہ اسلام اور رسول کریم علیہ تعلیم تمام دنیا پر غالب آجائے ہمیں اس کا انکار نہیں۔لیکن ایک ادنی عقل والا بھی اسے سیاست کی نہیں کہہ سکتا۔یہ ایک خالص مذہبی خواہش ہے یہ خواہش سیاسی تب بنتی ہے جب اس کے حاصل کی کرنے کے لیے سیاسی جتھے بنائے جائیں، سیاسی پارٹیاں بنا ئی جائیں تا حکومت پر قبضہ کیا جائے۔تب اس کا نام سیاست ہوگا۔اس سے پہلے یہ صرف مذہب ہے۔پھر صرف مذہب ہی نہیں چاہتا کہ وہ دوسروں پر غالب ہو ، فلسفہ بھی یہی چاہتا ہے۔جب کوئی شخص فلسفہ پڑھتا ہے اور اقتصادی اور معاشی حالات کے ماتحت علم حاصل کرتا ہے تو وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ان میں سے اچھی باتوں کو دنیا میں جاری کیا جائے۔اس خواہش کی بناء پر ہم اسے ایک فلسفی تو کہیں گے لیکن ایک انقلابی نہیں کہیں گے۔جس طرح اسلام کے متعلق اس قسم کی خواہش رکھنے والے کو ہم مذہبی کہیں گے انقلابی نہیں کہیں گے۔اسی طرح فلسفیانہ تجربوں کے ماتحت اقتصادی اور معاشی تغیر کی خواہش رکھنے والے کو ہم صرف