خطبات محمود (جلد 34) — Page 343
$1953 343 خطبات محمود کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ اُس کا ہر فرد دوسرے لوگوں کو خیر کی طرف بلاتا ہے 1۔اور اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ سب سے بڑی خیر قرآن کریم اور اسلام ہے۔لوگ تو محض اپنے تعلق کی وجہ سے ایک ناقص چیز کو بھی اچھا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔پھر کتنا افسوس ہو گا مسلمانوں پر کہ وہ اپنے تعلق کی بناء پر اچھی چیز کو بھی اچھا نہ سمجھیں۔ایک قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے دربار کے ایک حبشی غلام کو ایک ٹوپی دی اور اُسے ہدایت کی کہ تمہارے خیال میں جو سب سے زیادہ خوبصورت بچہ ہو یہ ٹوپی اُس کے سر پر رکھ دو۔وہ غلام سیدھا اپنے بچہ کے پاس گیا اور اُس نے وہ ٹوپی اُس کے سر پر رکھ دی۔اس پر سب لوگ ہنس پڑے کیونکہ اُس کا بیٹا کالے رنگ کا تھا۔اُس کی شکل بہت بد نما تھی ، اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی تھیں، بال چھوٹے اور کنڈلوں والے تھے۔دوسرے بچے سفید رنگ کے تھے۔اُن کے کی نقش نازک اور خوبصورت تھے۔لیکن اُس غلام نے ٹوپی پہنائی تو اپنے بد شکل بچہ کو۔بادشاہ نے کہا میں نے تو تمہیں کہا تھا کہ یہ ٹوپی اُس بچہ کو پہناؤ جو تمہارے نزدیک سب سے زیادہ خوبصورت ہو۔مگر تم نے یہ کیا کیا کہ ایک بدشکل کو یہ ٹوپی پہنادی؟ اُس غلام نے کہا بادشاہ سلامت ! آپ نے ٹوپی میرے ہاتھ میں دی تھی اور کہا تھا کہ تمہارے نزدیک جو بچہ خوبصورت ہے یہ ٹوپی 1 پہنا دو۔اور مجھے یہی بچہ سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے۔اس واقعہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تعلق کی وجہ سے بھی کسی چیز میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔حسن دو قسم کے ہوتے ہیں۔ذاتی 2 اضافی۔ایک حُسن تو ایک پینٹر اور نقاش کے نقطہ نگاہ میں ہوتا ہے۔وہ ایک چیز کو ایسا حسن دینا چاہتا ہے کہ دنیا کے اکثر افرادا سے حسین سمجھ لیں۔لیکن ایک حُسن وہ ہے جو تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔مثلاً خاوند کے نزدیک سب سے زیادہ خوبصورت بیوی اسکی اپنی بیوی ہو گی۔اگر یہ جھگڑا چل پڑے کہ فلاں کی بیوی خوبصورت ہے اور میری بدصورت ہے۔تو دنیا سے امن اور تقویٰ اُٹھ جائے۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت ایسی بنائی ہے کہ ایک حُسن اُس کی نظر میں اُس کے تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اور اس سے دنیا کا امن قائم رہتا ہے۔پس بیوی جو خاوند کی خدمت کرتی ہے، اُس کے گھر کو سنبھالتی ہے، اس کے بچہ کی ماں ہوتی ہے وہی اُس کی نگاہ میں خوبصورت ہوتی ہے۔خاوند مصوروں کے نقطہء خیال کو نہیں دیکھتا۔