خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 335

$1953 335 خطبات محمود کتنی گری ہوئی ہیں۔اسی طرح یہ انہیں سال کا دور اگلوں میں تحریک کرتا جائے گا۔ہرا نہیس سالہ دور کے بعد حصہ لینے والوں کی نسبت نکالی جائے گی اور اسے کتاب میں محفوظ رکھا جائے گا تو آئندہ آنے والے اس سے سبق حاصل کریں اور اپنی قربانیوں کو پہلے لوگوں کی نسبت سے زیادہ بڑھائیں۔میں آخری وعدوں کی میعاد مقرر نہیں کرتا کیونکہ میں ابھی دفتر سے بات نہیں کر سکا۔اور نہ پچھلے سالوں کی تاریخیں مجھے یاد ہیں۔یہ تاریخیں غالباً مارچ تک جاتی ہیں۔ہاں جماعت کو یا درکھنا تھی چاہیے کہ تحریک جدید کی وصولی اس سال نہایت خطر ناک طور پر کم رہی ہے۔ممکن ہے اگر وصولی کا یہی حال رہا تو کام رُک جائے۔ابھی تک صرف چھ ماہ کا خرچ ادا ہوا ہے اور ابھی چھ ماہ باقی ہیں۔لیکن جو خرچ متوقع ہے اس کے مقابلہ میں خزانہ میں جو روپیہ ہے وہ بہت کم ہے۔بجائے اس کے کہ آئندہ چھ ماہ کا خرچ جمع رہتا۔کیفیت یہ ہے کہ مجھے ڈر آ رہا ہے کہ موجودہ رقم سے ہم خرج ادا نہیں کرسکیں گے۔اور اگر یہی حالت رہی اور دو تین ماہ کا خرچ قرض اٹھا کر کرنا پڑا تو تحریک جدید کی ایسی لپیٹ میں آجائے گی جس سے نکلنا اس کے لیے مشکل ہو گا۔تحریک جدید کی جائیداد بھی اس کی کے خرچ میں مدد نہیں کر سکتی۔ابھی تک قرضے اُتارے جا رہے ہیں۔اُن اخراجات کی وجہ سے جو ی اس جائیداد کی خرید کے سلسلہ میں اس پر ہوئے۔یا اُس وقت تحریک جدید نے بعض قرضے لئے تحریک جدید پر ساڑھے آٹھ لاکھ کا قرض تھا۔اس لیے جائیداد سے جو آمد ہوتی ہے وہ قرضہ اتارنے میں خرچ ہو جاتی ہے۔میں سمجھتا تھا کہ تحریک جدید دفتر دوم اور جائیداد کی آمد دونوں کو ملا کر قرضے اتارے جائیں گے۔لیکن اب تو اتنا بوجھ پڑ گیا ہے کہ دفتر اول سے اسی فی صدی رقم دینے کے بعد بھی اخراجات پورے نہیں ہوتے۔پس میں اُن دوستوں کو جن کے ذمہ بقائے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے بقائے جلد ادا کر دیں۔وہ مجھے یہ بات یاد نہ دلائیں کہ اس وقت کی مشکلات بہت زیادہ ہیں۔یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے۔تم کو بھی معلوم ہے اور مجھے بھی معلوم ہے۔تم بھی اسی ملک کے رہنے والے ہو اور میں بھی اسی ملک کا رہنے والا ہوں۔تم میں سے اکثر کی آمد کے ذرائع بھی وہی ہیں جو میرے ہیں۔یعنی تمہاری آمدنی کا ذریعہ بھی زمینداری ہے اور میری آمدنی کا ذریعہ بھی زمینداری ہے۔بلکہ میری زمین ایسے علاقہ میں ہے جس کی فصل اس سال قطعی طور پر ماری گئی ہے۔