خطبات محمود (جلد 34) — Page 23
خطبات محمود 23 23 $1953 جو اُس نے تمہیں عطا کی ہیں اور تم نے انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تو تم اس ناشکری کے ساتھ خدا تعالیٰ سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ تم پر راضی ہو جائے۔پس تم اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور حالات کو زیادہ خراب ہونے سے بچاؤ۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا۔میں جمعہ کی نماز کے بعد بعض جنازے پڑھاؤں گا یعنی مندرجہ ذیل احباب کے:۔1۔سید عبدالرؤف صاحب جو سید عبدالغفور صاحب سیالکوٹی کے بھائی تھے فوت ہو گئے ہیں۔جنازہ میں بہت کم لوگ شامل ہوئے۔میں یہ سمجھ نہیں سکا کہ سیالکوٹ کے لوگ باوجود اس کے کہ وہاں ایک بڑی جماعت ہے جنازہ میں کیوں شامل نہیں ہوئے۔2 شیخ نور الحق صاحب کی نانی صاحبہ فوت ہوگئی ہیں۔مرحومہ شیخ نور احمد صاحب کی جو ہمارے مختار عام تھے ہمشیرہ تھیں۔وہ ربوہ سے باہر رہتی تھیں۔لیکن بیماری کی حالت میں یہیں آگئیں اور چند دن ہوئے اس جگہ فوت ہو گئیں۔3 جنت بی بی صاحبہ جو ہمارے مبلغ چودھری نذیر احمد صاحب رائے ونڈی مبلغ سیرالیون کی خالہ زاد ہمشیرہ تھیں۔رائے ونڈ کے مقام پر فوت ہوگئی ہیں۔جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہوئے۔-4 سردار بی بی صاحبہ اہلیہ حاجی خدا بخش صاحب میانوالی ضلع سیالکوٹ 25 دسمبر 1952ء کو فوت ہوگئی ہیں۔جماعت کے اکثر دوست جلسہ سالانہ پر ربوہ آگئے تھے اس لیے بہت کم لوگ جنازہ میں شریک ہوئے۔5۔امام دین صاحب جو مونگ ضلع گجرات کے رہنے والے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے فوت ہو گئے ہیں۔جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہوئے۔-6 جنت بی بی صاحبہ والدہ شیخ رحمت اللہ صاحب پٹواری جو صحابیہ اور موصیہ تھیں راولپنڈی میں فوت ہوگئی ہیں۔مرحومہ بنگہ ضلع جالندھر کی رہنے والی تھیں۔جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہوئے۔-7 محمد یوسف صاحب کو ٹلی باوا فقیر چند ضلع سیالکوٹ فوت ہو گئے ہیں۔احمدی قریب نہیں تھے اس لیے جنازہ غیر احمدیوں نے پڑھا۔یہ سات افراد ہیں۔نماز جمعہ کے بعد میں ان سب کا جنازہ پڑھاؤں گا۔،، الفضل 31 جنوری 1953ء)