خطبات محمود (جلد 34) — Page 321
$1953 321 خطبات محمود اور کسی طریق عمل کو اختیار کیے بغیر کام کرنے والا وقتی اثرات اور وقتی جوشوں کے ماتحت کام کرتا ہی ہے۔اُس نے کام شروع کرنے سے پہلے اُس پر غور نہیں کیا ہوتا کہ اس کے اعمال کی کیا حکمت ہے۔جو شخص کسی طریق عمل کو اختیار کرتا ہے اُس کو مہذب کہتے ہیں۔کیونکہ جب وہ اعمال اور اُن کے موجبات اور ان کی حکمتوں پر غور کرتا ہے تو وہ بعض کاموں کو چھوڑ دیتا ہے اور بعض کو اختیار کر لیتا ہے۔تہذیب کے معنے شاخ تراشی کے ہیں یعنی ٹہنیوں کے زائد حصہ کو کاٹ دینا۔مہذب آدمی کو مہذب اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک وقت میں بیسیوں نتائج پر غور کرتا ہے۔بعض امور کو وہ مناسب خیال کرتا ہے اور انہیں اختیار کر لیتا ہے اور بعض امور کو وہ غیر مناسب خیال کرتا ہے اور انہیں ترک کر دیتا ہے۔جو شخص کوئی کام وقتی جوش کے زیراثر کرتا ہے وہ اپنے لیے اصول مقرر نہیں کرتا۔اس لئے جوش کی حالت میں چند نعرے لگا لینے اور عملی طور پر کام نہ کرنے والے کو غیر مہذب کی کہا جاتا ہے۔یعنی اُس نے اپنے اعمال کی شاخ تراشی نہیں کی۔جس طرح سکھوں کی مونچھیں بڑھا جاتی ہیں یا جس طرح جنگل میں درختوں اور جھاڑیوں کی شاخیں بڑھ جاتی ہیں اور انہیں تراشا نہیں جا تا اسی طرح اُس کے اعمال کی حالت ہوتی ہے۔وہ وقتی جوش کے نتیجہ میں بعض کام کر گزرتا ہے اور ان کے متعلق غور نہیں کرتا کہ آیا وہ کام کرنا اُس کے لیے مناسب بھی ہے یا نہیں۔لیکن مومن مہذب ہوتا ہے وہ اپنے لئے ایک طریق عمل مقرر کرتا ہے اور پھر اس قانون کی اتباع کرتا ہے۔اور اگر غفلت کی وجہ سے وہ کوئی کام نہ کر سکے تو وہ اپنے اعمال کی پردہ پوشی کرتا ہے۔مثلاً بیماریاں ہیں۔بعض بیماریاں غلیظ ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر دوسروں کو گھن آتی ہے۔جیسے کوئی آدمی ایسا ہوتا ہے جس کی انگلیوں میں کوڑھ کی قسم کے زخم ہو جاتے ہیں۔اب سمجھدار آدمی تو دستانے پہن لے گا اور اپنی بیماری کو دوسروں کی نظر سے چھپالے گا۔لیکن ایک غیر مہذب انسان اپنے ہاتھ ننگے رکھے گا۔اُس سے رطوبت بہ رہی ہوگی۔مکھیاں زخموں پر بیٹھی ہوئی ہوں گی اور دیکھنے والے شخص کو اُس سے ی گھن آئے گی۔یا کسی شخص کو نزلہ اور زکام کی تکلیف ہے۔تو اگر وہ مہذب ہوگا تو ناک صاف کر کے مجلس میں آئے گا۔بلکہ اگر ہو سکے تو مجلس میں آئے گا ہی نہیں۔اور اگر آئے گا تو اپنے ساتھ رومال لائے گا۔اور اگر ناک سے رطوبت بہے گی تو رومال سے پونچھ لے گا۔لیکن جو غیر مہذب