خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 22

$1953 22 22 خطبات محمود وبنے کے سامان پیدا ہو چکے ہیں، ہم چھوٹے بچے ہیں تیرنا نہیں جانتے لیکن ہمارا خدا اس تالاب کے کنارہ پر کھڑا ہے۔اور وہ ہمیں یقیناً بچائے گا۔مگر جماعت کو یہ یادرکھنا چاہیے کہ جہاں ہمیں ضعف میں ایک بچہ سے مشابہت ہے۔وہاں دماغ کے لحاظ سے ہمیں ایک نوجوان سے مشابہت ہے اس لیے ہمارے متعلق یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ ہم میں سمجھ نہیں ہے۔ہم میں سمجھ ہے اس لیے ہمارا فرض ہے کہ جہاں ہم خدا تعالیٰ پر توکل کریں اور کسی اور پر تو کل نہ کریں وہاں ہم اُن طاقتوں کو بھی استعمال کریں جو ای خدا تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں۔خدا تعالیٰ ہمارا کام تو بہر صورت کر دے گا۔لیکن سب سے بڑی چیز جس کا حاصل کرنا ہمارے لیے ضروری ہے یعنی خدا تعالیٰ کی رضا، وہ ہمیں حاصل نہیں ہو سکے گی۔خدا تعالیٰ ہم سے اس بات پر خفا ہوگا کہ ہم نے وہ طاقتیں صحیح طور پر استعمال نہیں کیں جو اس نے ہمیں عطا کی تھیں۔جیسے ایک باپ جو کوئی ضروری کام کر رہا ہوتا ہے۔اور اُس کا بچہ اُس سے دُور ہوتا ہے۔وہ ایک کام کر سکتا ہے لیکن وہ کام خود نہ کرے اور اپنے باپ کو آواز دے کہ آؤ اور میرا کام کر دو تو باپ کہے گا تم میں طاقت تھی اور تم خود اس کام کو کر سکتے تھے۔لیکن تم نے یہ کام نہیں کیا اور مجھے یہاں بلا کر میرا وقت ضائع کیا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے متعلق ہم یہ تو نہیں کہ سکتے کہ اس کا وقت ضائع ہوتا ہے۔لیکن وہ اس کو اپنی ہتک تو سمجھتا ہے کہ ہم اُس سے وہ کام لیتے ہیں جو ہمیں نہیں لینا چاہیے۔پس تم وقت کی اہمیت کو سمجھو اور اس کی قیمت کو سمجھو۔تم حالات کی نزاکت کو سمجھو تم اپنے کا ماحول کی خطر ناک حالت کو سمجھو اور سستیوں کو چھوڑ کر اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرو۔صدر انجمن احمد یہ اور جماعت کے افراد دونوں کو مصائب کے یہ ایام صبر اور استقامت کے ساتھ خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ اس کے فضل جن کے آنے کا وعدہ ہے وہ ہماری اتنی کوشش ہی کی سے نازل ہو جائیں جتنی کوشش کرنے کی خدا تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی ہے۔خدا تعالیٰ ہمارا آقا ہے، نوکر نہیں۔اس لیے وہ آقا کی صورت میں ہماری مدد کرنے کے لیے تیار ہے، نوکر کی صورت میں مدد کرنے کو تیار نہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ جہاں ہم اس پر تو کل کریں وہاں ہم اُن طاقتوں کو صحیح طور پر استعمال کی کریں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہیں۔بے شک خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ وہ اس جماعت کو بڑھائے گا اور اسے ترقی دے گا۔اس لیے اگر تم اپنے فرض کو ادا نہیں کرو گے اور خدا تعالیٰ سے نوکروں کی کی خدمت لو گے تو وہ نوکروں جیسی خدمت بھی کرے گا۔اس جماعت کو بڑھائے گا اور ترقی دے گا۔لیکن اس کی صورت میں تم یہ امید نہیں کر سکتے کہ وہ تم پر راضی ہو جائے۔اگر تم نے اُن طاقتوں کو استعمال نہ کیا۔