خطبات محمود (جلد 34) — Page 290
$1953 290 خطبات محمود مبعوث ہوئے تھے۔میرے خیال میں صرف ایک فاتر العقل ہی ایسا سمجھ سکتا ہے۔کبھی ایسے مص دنیا میں نہیں آسکتے جو ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوں جب تک کہ ساری اصلاحیں اُن کے سپر ہوں۔ایک چو ہڑی آتی ہے اور وہ پاخانہ صاف کر کے چلی جاتی ہے۔بیلدار آتے ہیں اور وہ باغ صاف کر کے چلے جاتے ہیں۔گھر کی نوکرانی گھر کے کمرے صاف کر کے چلی جاتی ہے۔دھو بن گھر کے کپڑے صاف کر کے چلی جاتی ہے۔کلرک ، یا دفتری ، لائبریری کا کمرہ صاف کر کے چلانی جاتا ہے۔لیکن مالک اور مالکہ گھر کی ساری جگہیں ہی صاف کیا کرتے ہیں۔کوئی مالک یا مالکہ یہ نہیں کہتی کہ یہ صفائی میرے سپرد نہیں۔چو ہڑی کہہ دے گی کہ پاخانہ صاف کرنے کے سوا میرا اور کوئی کام نہیں۔دھو بن کہہ دے گی کہ کپڑے صاف کرنے کے سوا میرا اور کوئی کام نہیں۔بیلدار کہہ دے گا کہ باغ صاف کرنے کے سوا میرا کوئی کام نہیں۔مالی کہہ دے گا کہ میں نے لائبریری میں جا کر مار کھانی ہے۔میرا کام باغ کی درستی کرنا ہے۔دفتری کہہ دے گا کہ میرا کام تو لائبریری صاف کرنا ہے۔گھر کے کمرے صاف کرنا نہیں۔لیکن مالک کے سپر دسب کام ہیں۔وہ جسے مالک کی اپنا نمائندہ بناتا ہے اُس کے سپر دسب کام ہوتے ہیں۔محمد رسول اللہ ﷺ کو گھر کا مالک بنایا گیا تھا۔اس لیے دنیا کی ہر اصلاح آپ کے سپرد تھی۔اور اب جو آپ کا نائب ہوگا اُس کے سپر د بھی امت کے سب ہی فرائض ہوں گے۔پس کوئی کام ایسا نہیں جس کے متعلق ایک مسلمان کہے کہ وہ میرے سپرد نہیں۔مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ نے کی صلى الله اس وقت داروغہ مقرر کیا ہے۔کیونکہ محمد رسول اللہ ہے اس کے اصل مالک تھے۔اور اب آپ ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔اب مرزا صاحب آپ کے ایجنٹ کے طور پر آئے ہیں اور تم ان کی جماعت ہو۔پس ساری مرضوں کا دُور کرنا تمہارے سپرد کیا گیا ہے اور تمہاری طاقت میں رکھا گیا ہے۔اگر یہ باتیں تمہاری طاقت میں نہیں تھیں تو لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا والی آیت جھوٹی ہے۔اور اگر قرآن کریم کی ایک آیت جھوٹی ہے تو سارا قرآن کریم جھوٹا ہے۔خدا تعالیٰ کا کلام وہی ہو سکتا ہے جس کا ایک شوشہ بھی جھوٹا نہ ہو اور پھر جس کلام کا ایک شوشہ بھی جھوٹا نہیں ہوسکتا اُس کی ایک عظیم الشان آیت کیسے جھوٹی ہو سکتی ہے۔جھوٹے ہو تو تم ہو۔کیونکہ خدا تعالی کہتا ہے ہے کہ تم یہ کام کر سکتے ہو۔اور تم کہتے ہو ہم نہیں کر سکتے۔ایک استاد اپنے شاگر د کو دو سال تک