خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 7

$1953 7 خطبات محمود علیحدہ کھڑا کر کے دنیا میں کیوں فتنہ پیدا کیا ؟ اللہ تعالیٰ کی سکیم یہ تھی کہ خالصوں کو الگ کیا جائے اور یہ سکیم دو طرح سے جاری ہو سکتی تھی۔یا تو ناخالصوں میں سے خالصوں کو علیحدہ کیا جاتا۔اور یا خالصوں میں سے ناخالصوں کو علیحدہ کیا جاتا۔خدا تعالیٰ نے اس سکیم کو جاری کیا اور اس نے ناخالصوں میں سے خالصوں کو علیحدہ کر کے ایک جماعت بنادی۔اب اگر اس جماعت میں ناخالص مل گئے ہیں تو ہمیں دوسرے طریق پر عمل کرنا چاہیے یعنی خالصوں میں سے ناخالصوں کو علیحدہ کرنا چاہیے۔اس کے بغیر ہمارے لئے کوئی ای چارہ نہیں۔لیکن کارکن اس طرف توجہ نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر خالصوں میں کچھ لوگ نا خالص مل گئے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔دنیا میں اگر اخلاق بگڑتے ہیں ، اگر تقوی بگڑتا ہے تو ان کے کارکنوں کا کیا نقصان ہے۔نقصان تو خدا تعالیٰ کا ہے جس نے دنیا میں اپنا مامور بھیجا اور فتنوں کا سامان کیا تا خالص لوگ الگ ہو جائیں۔اگر اُس نے پہلے یہ تدبیر اختیار کی تھی تو اب بھی وہ خالصوں میں سے ناخالصوں کو الگ کرے گا۔تم چودھری کون ہو؟ اگر یہ خدا تعالیٰ کا سلسلہ ہے تو (اگر یہ الفاظ کی خدا تعالیٰ کے لیے استعمال کرنے درست ہوتے تو میں کہتا کہ ) وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی اس کی کو پاک وصاف کرے گا۔تم لوگ خدا تعالیٰ کے قائم مقام بن گئے ہو۔تمہارا کام تھا کہ تم تربیت کی طرف توجہ کرتے لیکن تم نے اسے تباہ کر دیا اور خالص اور نا خالص مخلوط ہو گئے تھے۔تو یا خالصوں کو ناخالصوں سے علیحدہ کر دینا چاہیے تھا اور یا نا خالصوں کو خالصوں سے علیحدہ کر دینا چاہیے تھا۔پہلے چونکہ ناخالص زیادہ تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے خالصوں کو ناخالصوں سے علیحدہ کر لیا۔اب چونکہ خالص زیادہ ہیں اس لیے ناخالصوں کو خالصوں سے علیحدہ کرنا چاہیے۔کیونکہ زیادہ چیز میں سے تھوڑی چیز کو نکالا جاتا ہے۔تھوڑی چیز میں سے زیادہ چیز کو نہیں نکالا جاتا۔فرض کرو ایک ہزار من مٹی میں ایک من ماش مل جائیں تو ایک من ماش کو ہزار من مٹی سے علیحدہ کیا جائے گا۔لیکن اگر ایک من ماش میں ایک پاؤ مٹی مل گئی ہو تو ہم ماش میں سے مٹی کو نکالیں گے۔کیونکہ مٹی تھوڑی ہے اور ماش زیادہ ہیں۔اسی طرح جب ناخالص زیادہ ہوں اور خالص کم ، تو ہم خالصوں کو ناخالصوں سے الگ کریں گے۔اور اگر خالص زیادہ ہوں اور نا خالص کم ، تو ہم ایسی تدبیر اختیار کریں گے کہ نا خالص، خالصوں سے الگ ہو جائیں۔یہ اتنی موٹی بات ہے کہ اسے ہر ایک شخص سمجھ سکتا۔ہے۔