خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 140

$1953 140 خطبات محمود سے کوئی نہ کوئی نتیجہ اور مفہوم بھینچ لاتا ہے۔لیکن ہمارے لوگ قرآن کریم کے مطالب سے اس طرح گزر جاتے ہیں جیسے چکنے گھڑے پر سے پانی بہہ جاتا ہے اور اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ایک عیسائی ہے مصنف سال میں صرف ایک صفحہ پڑھ کر بھی اس سے نتیجہ نکال لیتا ہے۔چاہے وہ دشمنی سے ہی ایسا کرتا ہے۔وہ قرآن کریم پر غور کر کے بعض اعتراض کر دیتا ہے۔اگر چہ وہ اعتراض معمولی ہوتے ہیں۔لیکن اُن کا جواب دینے کے لیے ہمیں غور کرنا پڑتا ہے۔اس سے صاف پتا لگتا ہے کہ اُس نے قرآن کریم کے اُس حصہ کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔تم شاید دواڑھائی ہزار کی تعداد میں یہاں بیٹھے ہو۔تم سے اگر یہ دریافت کیا جائے کہ قرآن کریم کی وہ کونسی آیات ہیں جو بظاہر ایک دوسرے کے خلاف نظر آتی ہیں تو ہے چاہے تم نے 50, 60 دفعہ قرآن کریم پڑھا ہو گا تم کہو گے ہمیں پتا نہیں۔حالانکہ تم ان آیات پر غور نہیں کرتے تو یہ کیونکر معلوم کرو گے کہ بظاہر اختلاف نظر آنے والا بہت بڑے پر حکمت مضامین پر دلالت کی کرتا ہے۔لیکن ایک عیسائی جس نے دس بارہ صفحے پڑھے ہوں گے فوراً کہنا شروع کر دے گا کہ فلاں آیت فلاں کے خلاف ہے، فلاں آیت فلاں کے خلاف ہے۔وہ ایک دفعہ پڑھنے کے باوجود اس سے کوئی نہ کوئی بات نکال لے گا لیکن تم سو دفعہ رٹنے کے بعد بھی اس سے کوئی بات نہیں نکال سکتے۔کیونکہ تم قرآن کریم کو محض تبرک کے طور پر پڑھتے ہو۔تم کہتے ہو کہ اگر کوئی شخص قرآن کریم کو پچاس دفعہ پڑھے لے تو وہ جنت میں چلا جاتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ پچاس دفعہ پڑھنے کے بعد بھی تم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے۔اور ایک معاند عیسائی جس نے ایک دفعہ بھی قرآن کریم نہیں پڑھا ہوتا اس سے کوئی نہ کوئی مطلب نکال لیتا ہے۔چاہے وہ دشمنی کے نتیجہ میں ہی ہو۔پھر سورتوں کی ترتیب ہے۔ہمارے علماء اور مفسرین میں سے جو لوگ چوٹی کے گنے کی جاتے ہیں اور جن کے نام کے آگے ہمارے سر ادب سے جھک جاتے ہیں وہ بھی اس کی ترتیب کو نہیں سمجھ سکے۔لیکن جرمن مستشرق نولڈ کے 1 لکھتا ہے کہ میں نے پہلے قرآن کریم کو پڑھا تو یہ سمجھا کہ یہ ایک بے جوڑ سی کتاب ہے۔لیکن آخری عمر میں جا کر اس نے یہ لکھا کہ گہرے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میں نے جو کچھ لکھا تھا وہ غلط تھا۔قرآن کریم کی آیات میں ایک زبردست مفہوم ملتا ہے ہے 2 باوجود اس کے کہ وہ دشمن تھا اور باوجود اس کے کہ وہ کئی بار اس کے خلاف لکھ چکا تھا وہ قرآنی مطالب کی ترتیب کا اقرار کرتا ہے۔اُس نے تو ایک آدھ دفعہ قرآن کریم پڑھا ہوگا لیکن تم تو سال میں دس بارہ دفعہ قرآن کریم پڑھ جاتے ہو۔رمضان میں ہی قریباً ہر ایک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ پانچ ، چھ سات یا