خطبات محمود (جلد 34) — Page 50
$1953 50 50 خطبات محمود ہے کہ قانون کی زد سے بچنے کے لیے ایسا کیا گیا ہے۔ورنہ آج سے ایک ماہ پہلے بھی لاہور میں بے ایمان اور بدمعاش لوگ عورتوں کی بے عزتی کرتے تھے۔آج سے ایک سال پہلے بھی لاہور میں بے ایمان اور کی بدمعاش لوگ عورتوں کی بے حرمتی کرتے تھے۔آج سے دو سال پہلے بھی لاہور میں بے ایمان اور بد معاش لوگ عورتوں کی بے عزتی کرتے تھے۔آج سے اڑھائی سال پہلے بھی لاہور میں بے ایمان اور کی بد معاش لوگ عورتوں کی بے حرمتی کرتے تھے۔تم اخبارات کو دیکھ لو۔اُن میں یہ واقعات چھپتے رہے ہیں کہ فلاں جلسے میں غنڈوں نے عورتوں کی بے حرمتی کی ، فلاں باغ میں غنڈوں نے عورتوں کی بے حرمتی کی۔اُس وقت تو غنڈوں کے خلاف تقریریں نہیں کی جاتی تھیں۔لیکن اب اُدھر تو یہ تقریر ہوئی ہے کہ اگر حکومت نے احمدیوں کو اقلیت قرار نہ دیا تو یہاں وہی کچھ ہو گا جو مشرقی پنجاب میں ہوا۔اور معابعد احمدیوں کے گھروں میں رقعے پڑنے شروع ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی غنڈہ گردی کے خلاف تقریریں شروع کر دی گئیں۔اس کے صرف یہی معنے تھے کہ چونکہ ہم نے تحریک کی ہے کہ احمدیوں کے گھروں کو کوٹ لو انہیں قتل کردوان کی عورتوں کی عصمت دری کرو۔اس لیے اگر ایسا کیا گیا تو یہ نہ ہو کہ حکومت ہمیں کی پکڑے۔اس لیے انہوں نے غنڈوں کے خلاف جلسے کرنے شروع کر دیئے تا گورنمنٹ پر ظاہر کیا جائے کہ ہم مسلمانوں کے اس فعل کے خلاف ہیں۔حالانکہ سیدھی بات ہے یا تو یہ کہ دو کہ ہم نے یہ بات نہیں ہے کہی۔ہم بھی کہہ دیں گے کہ احراریوں اور اُن کے ساتھیوں کا ارادہ فساد کا نہیں ہے ، ہم ان پر باطنی نہیں کرتے۔وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔لیکن اگر انہوں نے یہ بات کہی ہے اور ابھی تک انہوں نے اس کی کوئی تردید نہیں کی بلکہ ان باتوں کے آثار شروع ہو گئے ہیں، احمدیوں کے گھروں میں رھتے پڑنے لگا گئے ہیں کہ تم کو قتل کیا جائے گا اور تمہاری عورتوں کی بے حرمتی کی جائے گی اور پھر قانون کی زد سے بچنے کے لئے غنڈہ گردی کے خلاف جلسے بھی منعقد کرنے شروع کروائے گئے ہیں تو ہم نے اگر یہ مفہوم لے کے لیا کہ احراری احمدیوں کو قتل کرنے ، اُن کے گھروں کو ٹوٹنے ، اُن کی عورتوں کی عصمت دری کرنے کی کا ارادہ رکھتے ہیں۔احمدیوں کو چاہیئے کہ بہادری سے ایسے حملہ آوروں کا مقابلہ کریں اور اپنی جگہ نہ چھوڑیں تو کیا ہوا؟ کیا تم ایک بات کہتے ہو پھر اُس کی تردید بھی نہیں کرتے تو ہم اس سے یہ مفہوم نہ لیں تو کیا کریں؟ یہ بات تو ویسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں ایک بنیا تھا اُس کی دکان پر چور آ گیا۔وہ گھر سے