خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 371

$1953 371 خطبات محمود طور پر چلا جانا تو نہ جانے کے برابر ہے۔اگر وہ کسی کے کام نہ آئے تو اُس کے گھر سے نکلنے کا فائدہ ہے۔اگر وہ گھر سے کسی خدمت کے لیے نکلتا ہے تو اُسے سرے تک پہنچانا اُس کا فرض ہے۔اس کا طبائع پر اثر ہوتا ہے۔جب میں لندن گیا تو مجھے ایک کتاب کے خریدنے کی ضرورت پیش آئی۔یہ کتاب ایک ایسے کتب فروش سے ملتی تھی جو ایک غیر معروف علاقہ کا رہنے والا تھا اور اُس کے اردگرد کے لوگ انگریزی کو بگاڑ کر بولتے تھے اور اسے کا کنی زبان کہا جاتا تھا۔ایک جگہ پر ایک شخص آوازیں دے رہا تھا۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے کہا۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے دو تین دفعہ کان لگا کر اُس کی آواز کو نا۔لیکن اس کا مفہوم نہ سمجھ سکا۔چودھری صاحب ہنس کر کہنے لگے۔یہ کہتا ہے روزانہ اخبار لے لو۔وہ ڈیلی پیپر کو " ڈائلی پائی پر " کہہ رہا تھا۔اور ہم ڈیلی پیپر کو جانتے تھے " ڈائلی پائی پر " کو نہیں جانتے تھے۔جب ہم اُس علاقے میں پہنچے تو اتفاقاً ہم نے ایک پولیس مین سے پوچھا کہ فلاں شخص کہاں رہتا ہے اُس نے کہا میری ڈیوٹی نئی لگی ہے میں اس علاقہ سے ناواقف ہوں اور اس شخص کو نہیں جانتا۔چنانچہ ہم آگے چلے گئے۔ہم جس شخص سے بھی پوچھتے وہ " ڈائلی پائی پر " والی زبان بولتا جو ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی۔ہم نے ایک شخص سے پوچھا، دوسرے سے پوچھا، تیسرے سے پوچھا وہ سب وہی بولی بولتے تھے۔ہم حیران تھے کہ کیا کریں۔ایک عورت سڑک پر سے گزری، وہ تعلیم یافتہ تھی۔وہ کہنے لگی آپ نہ تو ان کے لوگوں کی زبان سمجھ سکتے ہیں اور نہ انہیں سمجھا سکتے ہیں۔یہ لوگ کا کنی زبان بولتے ہیں۔آپ نے کہاں جانا ہے؟ ہم نے کہا ہم فلاں کتب فروش کے پاس جانا چاہتے تھے۔وہ کہنے لگی مجھے اُس کا علم ہے۔چنا نچہ اُس نے ہمیں اس کا پتا بتایا۔ہم نے اُس کا شکریہ ادا کیا۔مگر اُس نے کہا میں آپ کے ساتھ جاؤں گی۔کہیں آپ پھر غلطی نہ کر جائیں۔اگر ایسا ہوا تو پھر آپ کو مشکل پیش آ جائے گی چنانچہ وہ ڈیڑھ فرلانگ تک ہمارے ساتھ گئی۔یہ چیز تھی جس کی وجہ سے ہم نے اُس کی ہمدردی کی روح کو محسوس کیا اور ہمارے دلوں میں اس قوم کی عظمت پیدا ہوئی کہ کس طرح یہ لوگ بیماروں ، بوڑھوں اور کمزوروں کی خدمت کے لیے پہنچتے ہیں۔وہ تو ڈیڑھ فرلانگ تک ہمارے ساتھ گئی۔لیکن ڈیڑھ صدی تک اُس نے ہمارے دل میں اپنی اور اپنی قوم کی عظمت پیدا کر دی۔پس خدام کو اس قسم کے واقعات کے لیے پہلے سے تیار رہنا چاہیے۔اور قبل از وقت اس۔