خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 350

$1953 350 خطبات محمود فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔بچے کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سوال کرتا ہے۔جب تم اُس سے کہو گے کہ جاؤ تم اپنی طرف سے چندہ لکھواؤ تو وہ پوچھے گا چندہ کیا ہوتا ہے؟ اور جب تم چندہ کی تشریح کرو گے تو وہ پوچھے گا یہ چندہ کیوں ہے؟ پھر تم اُس کے سامنے اسلام کی مشکلات اور اُس کی خوبیاں بیان کرو گے۔پس بچہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سوال کرتا ہے۔اگر تم ایسا کرو گے تو اُن کے اندر نئی روح پیدا ہوگی اور بچپن سے ہی اُن کے اندر اسلام کی خدمت کی رغبت پیدا ہوگی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔مغربی پاکستان کے لیے وعدوں کی آخری تاریخ 15 فروری ہوگی اور مشرقی پاکستان کے لیے میں آخر مارچ کی میعاد مقرر کرتا ہوں۔ایسے غیر ممالک کے لیے جن میں ہندوستانی بکثرت آباد ہیں حسب دستور آخری اپریل تک کی میعاد ہے۔اور جن ممالک کی میں ہندوستانی کثرت سے نہیں پائے جاتے اُن کے لیے وعدوں کی آخری میعاد 15 جون ہوگی۔ان تاریخوں تک وعدوں کی لسٹیں آجانی چاہیں۔مگر چونکہ بجٹ دسمبر میں بن جاتا ہے اس لیے تمام جماعتوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے وعدے 21 دسمبر تک بھجواد ہیں تا کہ اس پر آئندہ بجٹ کی بنیا درکھی جاسکے۔میں پہلے دور والوں سے یہ کہتا ہوں۔کہ وہ بجائے سُستی کے کہ میں نے اُن کے لیے نرمی پیدا کر دی ہے، اپنے اندر چستی پیدا کریں۔اور ان میں سے ہر ایک، دو اور آدمیوں کو تحریک ا کر کے اُن کے وعدے لکھوائے۔اس طرح امید ہے کہ دور دوم کی اتنی رقم ہو جائے گی کہ اس سے تبلیغ وسیع کی جاسکے۔سر دست دفتر دوم والوں کی قربانی کا معیار بہت کم ہے اور وصولی بھی بہت کم ہے۔پچھلے دو سالوں کا لحاظ رکھا جائے تو وصولی 95,94 ہزار کی ہوتی ہے اور وعدے سوا ڈیڑھ لاکھ کے ہوتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ 94, 95 ہزار کے ساتھ دنیا میں تبلیغ نہیں ہو سکتی۔تحریک جدید کا سالانہ بجٹ کم سے کم ساڑھے چار لاکھ کا بنتا ہے۔اور صاف ظاہر ہے کہ یہ کام 95 ہزار روپے سے نہیں ہوسکتا۔اور موجودہ بجٹ سے بھی جو کام ہوتا ہے وہ بہت ناقص ہے۔جب تک ہم اپنے ا مشنوں کا سائز کا بجٹ نہ بڑھائیں ، انہیں کتابوں اور لٹریچر کی اشاعت کے لیے رقم نہ دیں ، انہیں دوروں کے لیے خرچ نہ دیں تبلیغ وسیع نہیں ہو سکتی۔ایک آدمی کوکسی غیر ملک میں بٹھا دینا اور اس