خطبات محمود (جلد 34) — Page 330
$1953 330 خطبات محمود انیس سال کی جہاد روحانی کے لیے تحریک کرنا لغو بات تھی۔پس مجھے تو نقد جزا مل گئی۔تم کو تو تمہاری ہے قربانیوں کے بدلے میں اگلے جہان انعام ملے گا لیکن مجھے اس کا انعام نقد و نقد مل گیا ہے۔میں نے خیال کیا تھا کہ شاید انہیں سال کے بعد میں تم کو فارغ کر سکوں گا۔لیکن انہیں سال ختم ہونے ، پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے نور بخشا اور میں نے اپنی غلطی کو محسوس کر لیا اور سمجھا کہ میرا انیس سال کے لیے تحریک کرنا لغو بات تھی۔جس طرح نماز روزہ ، زکوۃ ایک مسلمان پر قیامت تک کے لیے فرض ہیں جہاد روحانی اور تبلیغ اسلام بھی اس پر قیامت تک کے لیے واجب اور فرض ہے۔پس میری مثال اُس شخص کی سی ہوگئی جو ایک ایسا درخت لگا رہا تھا جو بہت دیر میں پھل دینے والا تھا۔بادشاہ اُس جگہ سے گزرا۔اُس کا وزیر بھی ساتھ تھا اور وزیر کو بادشاہ کا یہ حکم تھا کہ جب میں کسی شخص کے کام پر خوش ہو کر ز یعنی " مرحبا یا آفرین“ کا لفظ کہہ دوں تو اُسے تین ہزار درھم دے دیا کرو۔بادشاہ نے جب اُس بڑھے کو دیر سے پھل دینے والا درخت لگاتے دیکھا تو اُس نے کہا بڑھے ! کیا تیری عقل ماری گئی ہے کہ تو یہ درخت لگا رہا ہے؟ یہ درخت تو بڑی دیر سے پھل دیتا ہے۔جب یہ درخت پھل لائے گا اُس وقت سے پہلے تم قبر میں جا پڑو گے۔بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت ! آپ کہتے ہیں کہ میں یہ کام کیوں کر رہا ہوں۔حالانکہ یہی کام میرے باپ دادا نے بھی کیا تھا۔اگر یہی خیال میرے باپ دادا کو بھی آتا تو وہ یہ درخت نہ لگاتے اور آج میں اس کا پھل نہ کھاتا۔انہوں نے یہ درخت لگایا اور ہم نے پھل کھایا۔اب میں یہ درخت لگاؤں گا اور میرے بچے اس کا پھل کھائیں گے۔پھر وہ یہ درخت لگائیں گے اور ان کی اولا د پھل کھائے گی۔جب شروع سے یہ طریق چلا آرہا ہے کہ باپ درخت لگاتا ہے اور اولا د اُس کا پھل کھاتی ہے تو میں اس کے خلاف کس طرح کر سکتا تھا۔میں یہ درخت لگا رہا ہوں تا میری اولاد اس کا پھل کھائے۔بادشاہ نے یہ جواب سُن کر کہا۔"زہ " واقع میں اس بڑھے نے درست کہا ہے۔اگر پرانے لوگ یہ درخت نہ لگاتے تو ہم اس کا پھل نہ کھا سکتے۔بادشاہ نے "زہ " کہا تو اُس کے حکم کے ماتحت وزیر نے تین ہزار درھم اُس دہقان کے سامنے رکھ دیئے۔وہ بڑھا تھا بڑا ہوشیار اُس نے جھٹ کہا بادشاہ سلامت آپ تو فرماتے تھے کہ تو مر جائے گا اور اس درخت کا پھل نہیں کھائے گا لیکن میں تو ابھی اس درخت کو لگا کر گھر بھی نہیں گیا اور اس کا پھل کھا لیا ہے۔بادشاہ نے پھر کہا