خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 227

$1953 227 خطبات محمود نام پر حرام خوری کرتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ خطرناک گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔کیونکہ اس میں صرف اُس کی اپنی بدنامی ہی نہیں ہوتی بلکہ خدا اور اس کے رسول کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے لوگوں کو مار مار کر اُن کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے تھے۔مگر اُن کی وجہ سے اُن کے مذہب کو کوئی بدنام نہیں کرتا۔لیکن بعض فیج اعوج کے کی مسلمان کہلانے والے بادشاہوں نے جہاد کے نام سے تلوار اٹھائی تو اُن کی وجہ سے اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کو آج تک بد نام کیا جارہا ہے۔اب مارنے والا بے ایمان کوئی اور انسان تھا مگر الزام ہمارے آقا پر آ گیا۔اُس بے ایمان نے اپنے نفسانی جوش کی وجہ سے خون ریزی کی۔مگر چونکہ اُس نے دین کا نام لے کر خون ریزی کی اور کہا کہ میں اسلام اور رسول کریم ہے کے حکم کے ماتحت ایسا کر رہا ہوں اس لیے اسلام بدنام ہو گیا۔حالانکہ اسلام میں ایسے اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھانے کی والے لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے خود تکلیفیں اٹھا کر معاہدات کی پابندی کی اور دشمن کے ہر قسم کے مظالم کے باوجود اُن سے حسن سلوک کیا۔لیکن اُن کی نیکیاں بھی ان بے ایمانوں کی وجہ سے چھپ گئیں۔جو کچھ ابو بکڑ نے کیا ، جو کچھ عمر نے کیا ، جو کچھ عثمان نے کیا ، جو کچھ علی نے کیا اور جو کچھ بنوامیہ کے کئی بادشاہوں نے کیا اور بنو عباس کے کئی بادشاہوں نے کیا بلکہ ان کے بعد بھی مختلف ملکوں کے مسلمان بادشاہوں نے کیا وہ ان کے اخلاق اور حسنِ کردار کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔انہوں نے اپنے دشمن سے جو سلوک کیا آدم سے لیکر آج تک کسی بادشاہ کے متعلق یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ اُس نے ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا ہو۔لیکن اُن کی نیکیاں بھی چُھپ گئیں۔کیونکہ بعض بے ایمانوں نے خدا کے نام پر لڑائیاں کیں اور جہاد کے نام پر فساد کئے اور خدا کے نام پر لوگوں کی گردنیں اڑانا جائز قرار دے دیا۔اگر وہ یہ کہہ کر لوگوں کی گردنیں اڑاتے کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ گرد نہیں اُڑائیں تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔آخر ہندوؤں نے لوگوں کی گردنیں اڑائیں ہیں یا نہیں؟ عیسائیوں نے گردنیں اڑائیں ہیں یا نہیں؟ لیکن باوجود اس کے کہ عیسائیوں نے بہت زیادہ ظلم کیے ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں مسلمانوں نے تیرہ سو سال میں اُتناظلم نہیں کیا جتنا عیسائیوں نے صرف ایک صدی میں کیا ہے پھر بھی عیسائیت بدنام نہیں ہوئی۔کیونکہ عیسائی یہ کہا کرتے تھے کہ ہماری طبیعت چاہتی ہے کہ ہم ایسا کریں۔اور مسلمان یہ کہا کرتے تھے کہ ہم خدا اور اُس کے رسول کے حکم