خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 214

$1953 214 خطبات محمود۔ہوئی ہے۔اس پر اُس نے بتایا کہ میں فلاں گاؤں کا رہنے والا ہوں اور اپنے ایک بزرگ کا جو اس کے دادا یا چچا تھے نام لے کر کہا کہ انہیں علم کا بڑا شوق تھا۔انہوں نے دیو بند سے خاص طور ایک قاری بلوا کر اپنے خاندان کے افراد اور گاؤں کے دوسرے بچوں کو قرآن کریم پڑھایا تھا اور اس وجہ سے میں نے یہ آیت ٹھیک پڑھی ہے۔غرض دنیا میں جب کوئی عجیب چیز نظر آتی ہے تو لوگ آپ کی ہی آپ اس کے متعلق دریافت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔مجھے چونکہ یہ ایک عجیب بات نظر آئی کہ ایک ایسا شخص جو زمیندار معلوم ہوتا ہے اُس نے قرآن کریم کی وہ آیت جو عمو ما غلط پڑھی جاتی ہے صحیح پڑھی ہے اس لیے میں نے اُس سے یہ پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ اور جب پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیو بند سے ایک قاری بلوا کر ہمیں قرآن کریم پڑھایا گیا تھا۔اسی طرح اگر کوئی شخص نیک اعمال بجالائے ، نیکی اور تقویٰ میں نمونہ بن جائے ، ہر قسم کے بُرے اور نا پسندیدہ کاموں سے بچے ، لوگوں کی خیر خواہی اور ان کی ترقی کے کاموں میں حصہ لے تو ہر شخص اس۔خود بخود پوچھے گا کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے آپ کس قسم کے اعمال بجالا رہے ہیں۔میہ دنیا بے نمازی ہے مگر آپ پانچوں وقت نماز پڑھتے ہیں، یہ دنیا بے روز ہے مگر آپ با قاعدہ روزے رکھتے ہیں، یہ دنیا فریب کاری اور مکاری سے کام لیتی ہے مگر آپ ہر قسم کے فریب اور مکر کے کاموں سے بچتے ہیں، یہ دنیا دوسرے لوگوں کے اعمال کو کھا جاتی ہے مگر آپ ان کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں۔آپ آخر کہاں سے آگئے ہیں؟ وہ کہے گا کہ میرا وطن احمدیت ہے۔اس پر وہ کہے گا کہ اگر احمدیت ایسی ہی چیز ہے جو بندے کا خدا سے تعلق پیدا کر دیتی ہے تو میں اس احمدیت کو قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔غرض تمہارا اپنا عمل اور تمہارا چلن سب سے بڑی تبلیغ ہے۔اگر تم اپنے عمل کو درست رکھو اور اپنا چلن پاکیزہ بناؤ تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا تمہاری طرف ނ خود بخود متوجہ نہ ہو۔پس اس نشان سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اندر ایک نیک تبدیلی پیدا کرو۔میں نے بتایا ہے کہ یہ ویسا ہی نشان ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے خدا تعالیٰ نے مکہ میں ظاہر فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بیت اللہ کی بنیاد میں اٹھا ئیں تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کی تھی کہ الہی ! میں اولا د کو یہاں اس لیے بسا رہا ہوں تا کہ وہ تیرے دین کی اشاعت کرے، تیرے ذکر کو بلند کرے اور تیری عبادت میں اپنی عمر بسر کرے۔6