خطبات محمود (جلد 34) — Page 157
$1953 157 خطبات محمود ضرورت ہوگی۔لیکن خدا کو ایک ماننے کے لیے کسی سہارے اور قربانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔دنیا کو جو چیز نظر آتی ہے وہ تمہارے اعمال ہیں۔اگر تم میں دیانت نہیں پائی جاتی کسی کی چیز کو واپس دینے میں تم بہانے بناتے ہو، کسی کو سودا دینے لگتے ہو تو کم تول کر دیتے ہو۔تو تمہیں ہر شخص دیکھتا ہے اور تمہارے متعلق فیصلہ کرتا ہے کہ تمہارے اندرونے کی کیا حالت ہے۔دنیا کے لیے تم کس حد تک مفید ہو یا مضر ہو۔آخر دوہی صورتیں ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ سارا جھگڑا پریٹ کا ہے۔اگر روٹی مل جائے تو سب کچھ ہے۔مثلاً کمیونسٹ ہیں انہوں نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ہماری اصل غرض پیٹ کا بھرنا ہے۔ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ خدا ہے ، نبی ہے یا کوئی کتاب ہے۔ان کے نزدیک عقائد ، خوبصورت نظریات کے سوا اور کچھ نہیں۔ان کے نزدیک سب فضول باتیں ہیں۔وہ محنت کر کے دو پیسے کما لیتے ہیں اور پیٹ بھر لیتے ہیں۔یہی ان کی سب سے بڑی غرض ہے۔دوسرے لوگ جو مذہب کو حقیقت دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ہے تو تھی ہمیں اُس نے کیا دیا ہے۔بے شک ہمیں خدا تعالیٰ کی ہستی کی ضرورت ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ موجود ہے تو اس نے ہمیں کیا فائدہ پہنچایا ہے۔ہم نے دوسروں سے لڑائیاں کیں، چند عقائد بنالئے اور دوسروں سے جھگڑے مول لئے لیکن اس کا فائدہ کچھ بھی نہ ہوا۔وہی دھوکا بازی ،لڑائیاں ، بغض، کینے، ماردھاڑ ، فریب اور فساد دُنیا میں موجود ہیں۔پھر ہمیں خدا تعالیٰ کا کیا فائدہ۔اگر خدا ہوتا تو ہماری ان باتوں کا کوئی نتیجہ نکلتا۔ٹھنڈے پانی کے قطرے سے جسم ٹھٹھر جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ پر ایمان لانے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اگر کسی کو کھوٹا پیسہ بھی مل جائے تو وہ اُس سے بھی ایک چھٹانک چنے خرید لیتا ہے لیکن خدا پر ایمان لانے سے اتنا فائدہ بھی لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص تھا۔اُس کے دماغ میں کوئی نقص پیدا ہو گیا تھا۔انسان جس قوم سے تعلق رکھتا ہوا گر وہ پاگل ہو جائے تو وہ اُسی قوم کی باتوں کی سی باتیں سوچتا ہے۔مثلاً جس قوم میں الہام پر زور ہو اُس کا فرد پاگل ہونے پر الہامی باتیں ہی سوچتا ہے۔احمد یہ جماعت میں میں نے دیکھا ہے کہ جس کسی کا دماغ خراب ہو جاتا ہے وہ نبی اور ولی بن جاتا ہے۔ہمارے مدرسہ میں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے زمانہ میں ایک چپڑاسی تھا جس کا نام