خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 156

$1953 156 خطبات محمود لگایا ہوا ہے اگر میں احمدی ہو جاؤں تو آپ کیا دیں گے؟ ایسا شخص دوسروں کے ورغلانے سے ؟ اپنے باطنی گند کی وجہ سے یہ خیال کر لیتا ہے کہ اگر مجھے کچھ پیسے مل جائیں تو میں اپنا مذ ہب بدل لوں۔پس دنیا میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے بعض بڑی بڑی چیزیں چھوڑ دی جاتی ہیں۔اسی طرح بعض بڑی بڑی چیزیں کسی قربانی کے بغیر لوگ قبول کر لیتے ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کی ہستی کو لے لو۔خدا تعالیٰ کی ہستی کتنی بڑی ہے۔لیکن اگر ہم سوچیں کہ خدا ہے یا خدا ایک ہے تو اس میں ہاتھ ہلانے ، زبان ہلانے یا روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔یونہی دل میں خیال آیا اور ی مان لیا۔لیکن اس کے مقابلہ میں پانی پینے کے لیے کتنی حرکت کرنی پڑتی ہے۔اگر کسی شخص نے پانی پینا ہے اور اسکے پاس اس کا کوئی نوکر یا رشتہ دار موجود نہیں تو اُسے کو زہ پانی کا ہاتھ میں پکڑنا پڑتا ہے ہے۔پھر کھڑا ہو کر اسے اٹھانا پڑتا ہے، پھر مٹکے سے بھرنا پڑتا ہے، پھر پانی ہونٹوں تک اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے، پھر اُسے ہونٹوں سے لگا نا پڑتا ہے، پھر ہونٹوں میں کشش پیدا کرنی پڑتی ہے تا کہ وہ ای پانی کو منہ کے اندر لے جائیں، پھر گلے میں حرکت پیدا کرنی پڑتی ہے کہ وہ پانی کو معدہ میں لے جائے۔اتنی کوشش کے بعد ہم ایک کوزہ پانی پیتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کو خالق و مالک ماننے میں ہمیں اس کا ہزارواں حصہ بھی حرکت نہیں کرنی پڑتی۔پس عقائد کا ماننا اور انہیں چھوڑ نا کوئی کوشش اور محنت نہیں چاہتا۔وہ لوگ بیوقوف ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے بعض عقائد کو مان لیا ہے ہمیں عمل کی ضرورت نہیں۔عقائد سے بڑی چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں لیکن ماننے کے لحاظ سے ان سے چھوٹی چیز بھی دنیا میں کوئی نہیں۔کیونکہ ان کے لیے کوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی۔بے شک جو لوگ ان عقائد کو نہیں مانتے اُن تک پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن یہ ساری کوششیں محض اس لیے ہوتی ہیں کہ انسان صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اگر انسان صداقت کو ماننے کے لئے تیار ہو جائے تو ی اس کے لیے کسی مبلغ اور سمجھانے والے کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ خود ہی صداقت پر ایمان لا سکتا ہے ہے۔لیکن عمل کا حصہ چاہے کتنا چھوٹا ہو اس کے لیے کوشش اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض دفعہ دوسرے شخص سے مدد بھی لینی پڑتی ہے۔مثلاً ایک شخص بیمار ہے تو اسے ایک کوزہ پانی کے لیے بھی دوسرے ے شخص کی مدد کی ضرورت ہے۔یا اگر وہ پیشاب اور پاخانہ کرنا چاہتا ہے اور وہ چل کر دوسری جگہ نہیں جاسکتا تو اُسے پیشاب اور پاخانہ کرنے کے لیے ایک یا دو آدمیوں کے سہارے کی