خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 3

خطبات محمود 3 $1953 اب میں نئے سال کے متعلق بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ 1953 ء کے شروع میں سات روزے رکھے جائیں اور یہ روزے ہر پیر کے روز ر کھے جائیں۔اس طرح پہلا روزہ 5 جنوری کو ہوگا۔آج جمعہ ہے اور 2 جنوری ہے۔کل ہفتہ ہے اور پرسوں اتوار۔اترسوں سوموار ہوگا اور اُسی دن پہلا روزہ ہوگا۔ہر احمدی جو تندرست ہے اور طاقتور ہے وہ یہ سات روزے رکھے اور دعا کرے کہ خدا تعالیٰ جماعت کو ان فتنوں کے ضرر سے بچائے رکھے، اس کی ترقی کے سامان پیدا کرے۔اور یا ظالموں کے ہاتھ کو روک لے۔یا ہمیں اُس صبر کی تو فیق بخشے جو مومن کا حصہ ہوتا ہے۔اور ہماری کوششوں کے وہ ثمرات پیدا کرے جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں۔اور یہ روزے 12,5, 19, 26 جنوری اور 2, 116,9 فروری کو ہوں گے۔جن کے رمضان کے روزوں سے کچھ باقی ہوں وہ حسب طریق سابق اِن روزوں کو ان بقیہ روزوں کی جگہ رکھ سکتے ہیں باقی جماعت بطور نفل کے رکھے۔الفضل میں آج اعلان شائع ہوا ہے لیکن غلطی سے 1, 16, 19 فروری شائع ہو گیا ہے۔مگر یہ کتابت کی غلطی ہے۔حساباً 19 فروری کو سوموار نہیں آتا۔یہ دراصل 9 فروری ہے جو 19 فروری بن گئی۔لیکن تاہم کئی سادہ لوح ایسے ہوتے ہیں جو صرف الفاظ کو دیکھتے ہیں اُن پر غور نہیں کرتے پس یہ 19 فروری نہیں بلکہ 9 فروری ہے۔پس ایک تو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست یہ سات نفلی روزے رکھیں اور جماعتوں کو چاہیے کہ وہ دوستوں کو ہر جگہ ان روزوں کے متعلق یاددہانی کراتی رہیں۔نفلی روزے سفر میں بھی جائز ہیں اس لیے جن کو طاقت ہو ، جو لوگ تندرست ہوں وہ سفر میں بھی یہ روزے رکھیں۔بیمار یہ روزے نہ رکھیں کیونکہ بیمار پر کوئی روزہ نہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے روزے بھی اُن کے لیے معاف کر دیئے ہیں تو ہم کون ہیں جو انہیں نفلی روزے رکھنے پر مجبور کر ہیں۔پس جو بیمار اور بوڑھے ہیں اور روزے نہیں رکھ سکتے اُن پر نہ رمضان کے روزے ہیں اور نہ نفلی روزے۔لیکن جو لوگ طاقتور ہیں ، تندرست ہیں اُن کے لیے سفر میں رمضان کے روزے جائز نہیں نفلی روزے جائز ہیں۔کیونکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ جب مسافر کے لیے فرضی روزے منع ہو گئے تو بھی بعض صحابہ شفر اور لڑائیوں میں نفلی روزے رکھ لیتے تھے۔ان ایام کو خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں