خطبات محمود (جلد 34) — Page 101
$1953 101 خطبات محمود یہ چیز اس کے نزدیک بالکل غیر ممکن تھی۔ނ مجھے یاد ہے کوئی تمیں سال کی بات ہوگی کہ میرے پاس گاؤں کی ایک عورت آئی۔اس نے ی اپنی مصیبت بیان کر کے نہایت لجاجت سے کہا کہ آپ میری مدد کریں۔میں نے اس کی حالت۔اندازہ لگایا کہ یہ 50, 60 روپیہ مانگتی ہوگی۔میرے دل میں رحم پیدا ہوا اور سمجھا کہ اس قدر مدد میری طاقت سے باہر نہیں۔میں اس عورت کی مدد کر سکتا ہوں۔اس لیے میں نے اُس عورت سے دریافت کیا کہ تمہیں کس قدر رقم چاہیئے ؟ اس پر اُس عورت نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔مجھے آٹھ آنے چاہئیں۔میں نے اُسے کچھ رقم تو دے دی لیکن اس واقعہ نے میرے دل پر ایک ایسا گہرا زخم چھوڑا جسے میں آج تک نہیں مٹا سکا۔اب دیکھ لو ہمارے ملک میں غربا کی کیسی گری ہوئی حالت ہے۔اس عورت نے آٹھ آنے کی لینے کے لیے پانچ سات منٹ تک اپنی مصیبت کا اظہار کیا اور پھر نہایت مجھجکتے جھجکتے اپنا آخری مطالبہ پیش کیا۔اب اس عورت کے نزدیک دس روپے والا بھی بڑا مالدار کہلائے گا۔اسی طرح یہ لطیفہ بھی ہمارے ملک کی گری ہوئی حالت پر دلالت کرتا ہے کہ چند دیہاتی ایک جگہ بیٹھے تھے۔ان میں سے ایک نے کہا ملکہ وکٹوریہ کیا کھاتی ہوگی؟ دوسرے شخص نے کہا بھنا ہوا گوشت کھاتی ہوگی۔ایک نے کہا وہ حلوہ کھاتی ہوگی۔ایک اور شخص نے کہا وہ زردہ کھاتی ہوگی۔اس پر ایک بڑھے نے کہا تمہاری عقل ماری گئی ہے کیا ملکہ وکٹوریہ اتنی بڑی بادشاہ ! اور وہ گوشت ، حلوہ یا زردہ کھاتی ہو؟ اُس نے ایک کمرہ ادھر بنایا ہوا ہو گا اور ایک اُدھر۔ان میں گڑ کی بھیلیاں 1 بھری ہوئی ہونگی۔ادھر جاتی ہوگی تو گرہ کی ایک بھیلی کھا لیتی ہوگی اور اُدھر جاتی ہوگی تو گڑ کی ایک پھیلی کھا لیتی ہوگی۔اور ساتھ ہی ساتھ ٹہلتی جاتی ہوگی۔یہ حالت کتنی گری ہوئی ہے کہ ہم اپنی دولت کا معیار وہ بتاتے ہیں جو کسی یورپین ملک کے ایک ذلیل سے ذلیل انسان کے معیار سے بھی گرا ہوا ہوتا ہے۔اس پر قیاس کرلو کہ ہمارا آدمی رحمان کی تعریف کرتا ہوگا اور اُس کی طاقتوں کا اندازہ لگاتا ہوگا تو کہتا ہوگا اُس کی اتنی طاقت ہوگی کہ کسی کو پچاس روپے دے دیئے۔اور اگر رحیم کی تعریف کرے گا تو کہے گا گورنمنٹ نصف تنخواہ پنشن دیتی ہے ہے تو شاید خدا تعالی ساری تنخواہ بطور پینشن دے دے۔کیونکہ ہمارے ملک کے لوگوں کے اندر