خطبات محمود (جلد 34) — Page 86
1953ء 86 خطبات محمود گویا اُس دن تک ابو قحافہ پکے مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اسلام کی وجہ سے عربوں میں اس قسم کا عظیم الشان تغیر پیدا ہو گیا ہے کہ سردار خاندان بھی ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں تو اس نے کہا اب میں سمجھ گیا ہوں کہ رسول کریم ﷺ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے ۔ اگر سب سردار خاندان میرے بیٹے ابوبکر کی بیعت کر لیتے ہیں تو یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا بہت بڑا نشان ہے۔ اب دیکھو! ابوبکر بادشاہ بن گئے۔ لیکن انکا باپ یہ سمجھتا تھا کہ ان کا بادشاہ ہونا ناممکن ہے۔ کیونکہ انہیں بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی تھی ۔ اس کے مقابلہ میں تیمور بھی ایک بڑا بادشاہ تھا لیکن وہ اپنی دنیوی تدابیر کی وجہ سے بادشاہ ہوا تھا نپولین بھی بڑا بادشاہ تھا لیکن وہ اپنی محنت اور دنیوں تدابیر سے بادشاہ بن گیا تھا۔ نادر شاہ بھی بڑا بادشاہ تھا لیکن اسے بھی بادشاہت اپنی ذاتی محنت اور کوشش اور دنیوی تدابیر سے ملی تھی ۔ پس بادشاہت سب کو ملی ۔ لیکن ہم کہیں گے تیمور کو بادشاہت آدمیوں کے ذریعہ ملی۔ لیکن ابوبکر کو بادشاہت خدا تعالیٰ سے ملی ۔ ہم کہیں گے نپولین کو بادشاہت دنیوی تدابیر سے ملی تھی لیکن حضرت عمرؓ کو بادشاہت خدا تعالی سے ملی ۔ ہم کہیں گے چنگیز خان کو بادشاہت دنیوی ذرائع سے ملی تھی لیکن حضرت عثمان کو بادشاہت خدا تعالیٰ نے دی ۔ ہم کہیں گے نادر شاہ دنیوی تدابیر سے بادشاہ بنا تھا لیکن حضرت علیؓ کو بادشاہت خدا تعالی نے دی۔ قانون پس با دشاہت سب کو ملی ، دنیوی بادشاہوں کا بھی دبدبہ تھا ، رُعب تھا۔ اُن کا بھی قا چلتا تھا اور خلفاء کا بھی۔ بلکہ اُن کا قانون ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے زیادہ چلتا تھا۔ لیکن یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بادشاہ مقرر ہوئے تھے اور وہ آدمیوں کے ذریعہ بادشاہ ہوئے تھے ۔ پس جب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی اہم کام سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھتا اسے برکت نہیں مل سکتی ۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام رہتا ہے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے وہ مقصد خدا تعالیٰ سے نہیں مل سکتا ۔ جو بادشاہت خدا تعالی کے ذریعہ ملنے والی تھی وہ حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی کو ملی ۔ ان کے سوا دوسرے لوگوں کو نہیں ملی ۔ دوسروں کو جو بادشاہت ملی وہ شیطان سے ملی یا انسانوں سے ملی ۔ ورنہ لین ، سٹالن اور مالنکوف 3 نے بسم اللہ نہیں