خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 67

$1953 67 خطبات محمود رنج ہمیشہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت مدد کرے۔اور جب انسانی ذہن کو فطرت اس طرف لے جاتی ہے کہ اب کوئی غیر طاقت ہی مدد کرے تو کرے، تو معاً اُس کا دل ادھر مائل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس دکھ کو دور کرے۔اور وہ کہتا ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجَعُونَ میں اللہ تعالیٰ کا ہی ہوں اور میں اُسی سے مدد مانگتا ہوں۔اُس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جو میری مدد کرے۔إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کے یہ بھی معنے ہیں کہ آخر ہم نے بھی اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے۔لیکن اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ اگر ہم نے لوٹنا ہے تو خدا تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔اگر ہم نے گریہ وزاری کرنی ہے تو اُس کے سامنے ہی کرنی ہے۔پس اسلام نے یہ دونوں سبق فطرت کے تقاضا کے عین مطابق دیئے ہیں۔کامیابی کے وقت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم الحمد للہ کہو 1 اگر تمہاری فطرت صحیحہ ہے اور تمہارے دماغ پر جنون اور دیوانگی طاری نہیں اور تمہیں جب بھی خوشی پہنچی ہے تم عزیزوں کی طرف کو ٹتے ہو لیکن یاد رکھو تمہارا سب سے بڑا عزیز خدا تعالیٰ ہے۔اگر تمہیں کوئی خوشی پہنچی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی پہنچی ہے ہے۔اسی طرح جب کوئی رنج پہنچتا ہے تو یہ انسان کی کمزوری کی علامت ہوتا ہے۔اس لیے وہ خود اسے دور نہیں کر سکتا۔وہ طبعا یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے دوست اور عزیز اُس کی مدد کریں۔مگر یا درکھو تمہارا سب سے بڑا عزیز اور دوست خدا تعالیٰ ہے۔تم اُس کے سامنے جھکو اور اُسی سے مدد طلب کرو۔جولوگ رسول کریم ہے کے اس سبق پر عمل کرتے ہیں وہ ناکام و نامراد نہیں رہتے۔ناکام و نامراد وہی ہوتا ہے جو غیر طبعی فعل کرتا ہے۔مثلا رات کو ڈا کہ پڑتا ہے تو عقل مند شخص اپنے عزیزوں اور دوستوں کے پاس جاتا ہے۔اور اُن سے مدد طلب کرتا ہے۔لیکن بے وقوف انسان دوڑ کر جنگل کی طرف چلا جاتا ہے۔حالانکہ جنگل میں اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔اسی طرح روحانی دنیا میں ایک عقل مند انسان تو ای خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے۔لیکن بے وقوف یونہی ہائے اماں! ہائے اماں! کہتا رہتا ہے۔اب صاف ظاہر ہے کہ اماں نے کیا کرنا ہے۔جو کچھ کرنا ہے خدا تعالیٰ نے کرنا ہے۔اور وہ خدا تعالیٰ کے پاس جاتا نہیں۔وہ اس کے پاس جاتا ہے جو کچھ نہیں کر سکتا۔پس جماعت کے دوستوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی زندگی کو اس طریق پر چلا ئیں جو رسول کریم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے۔یا درکھو! اسلام سب سے زیادہ کامل مذہب اور اعلیٰ تعلیم دینے والا دین ہے۔ہماری خوش قسمتی