خطبات محمود (جلد 34) — Page 62
$1953 62 خطبات محمود بنوادیں۔آخر پانچ سال تک جماعت احمدیہ کے اقلیت قرار نہ دیئے جانے کی وجہ سے ان کا کیا نقصان ہوا ہے؟ دو سال اور انتظار کر لیں۔اگر نئی اسمبلی یہ فیصلہ دے دے کہ ہم اقلیت ہیں تو ہم کی اقلیت بن جائیں گے۔ہمارا کیا ہے۔ہم پھر بھی وہی کچھ کہیں گے جو اب کہہ رہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر جماعت پر یہ لوگ اس رنگ میں حملہ کریں گے اور زبر دستی اُسے اسلام سے باہر کرنے کی کوشش کریں گے تو خدا تعالیٰ خود ہماری مدد کرے گا۔اگر ہمیں اقلیت قرار دے دیا جائے کی تو خدا تعالیٰ اکثریت کے دل کھول دے گا اور وہ احمدی ہو جائیں گے اور اس طرح اقلیت اکثریت میں تبدیل ہو جائے گی۔یہ چیز خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کو جتنا غصہ دلائیں گے اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔ہم نے کب کہا ہے کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ہم تو یہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہی سب کچھ کرتا ہے۔یہ لوگ اُس سے جتنا ٹکرائیں گے ہمارے لیے اُس کی مدد بڑھ جائے گی۔میں چند دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ بیعت بڑھ رہی ہے اور چٹھیوں میں یہی لکھا ہوتا ہے کہ موجودہ شورش نے ہماری توجہ احمدیت کی طرف پھیر دی ہے۔حالانکہ چاہیے تھا کہ اس شورشی سے ڈر کر لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف سے ہٹ جاتی۔لیکن ہمیں نظر آتا ہے کہ لوگوں کی توجہ بڑھا رہی ہے۔پس اگر یہ لوگ ہم پر ظلم کریں گے یا ہماری وجہ سے حکومت پر ظلم کریں گے تو ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہماری اور ملک کی مدد کرے گا۔لیکن عوام کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ملک پر کوئی ہے مصیبت آئی تو ان مولویوں کا کچھ نہیں بگڑئے گا۔جب مشرقی پنجاب میں ماردھاڑ ہوئی تو عوام ہی ہے مارے گئے تھے مولوی نہیں مارے گئے تھے۔اگر عورتوں کو اغوا کیا گیا تھا تو عوام کی عورتوں کو اغوا کیا ت گیا تھا۔اب بھی اگر ملک کا نظم ونسق بدلا اور خدانخواستہ کسی غیر ملک کی فوجیں پاکستان میں داخل ہوئیں تو یہ مولوی بھاگ جائیں گے۔مارے جائیں گے تو عوام، پکڑے جائیں گے تو عوام، عورتیں اور بچے اغوا کئے جائیں گے تو عوام کے۔پس ملک کو تباہ کر نیکی بجائے تم صحیح طریق اختیار کرو۔اگر تم کوئی فیصلہ کروانا چاہتے ہو تو اپنے نمائندوں پر اثر ڈالو۔اگر ان کی اکثریت تمہارے حق میں ہو جائے گی تو تمہارے حسب منشاء فیصلہ ہو جائے گا۔لیکن تم اس سے پہلے ملک کے نظم و نسق کو کیوں خراب کرتے ہو؟ اگر اتنی دیر تک احمدیوں کو اقلیت قرار نہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑا تو کچھ دیر اور انتظار کر لیں۔اس سے کیا فرق پڑے گا۔اگر اکثریت تمہاری طرف ہو گئی تو تم ہمیں