خطبات محمود (جلد 34) — Page 370
1953ء 370 خطبات محمود ڈالیں۔ جیپ ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن میں نے کہا جب تک جیپ ٹھیک نہ ہو جائے ہم آگے نہیں جائیں گے۔ آخر جیپ ٹھیک ہو گئی اور ہم آگے روانہ ہو گئے ۔ اور پھر خدا کا فضل ہوا کہ ہمیں کوئی خطرہ پیش نہ آیا۔ پہلے ہم راولپنڈی گئے اور پھر پشاور گئے ۔ اس افسر نے مجھے بتایا تھا کہ میں شنگاری قبیلہ کا چیف ہوں ۔ دو تین دن کے بعد وہ پشاور آیا اور اُس نے ذکر کیا کہ میں کشمیر فرنٹ پر لڑ رہا تھا۔ ایک ضرورت کے پورا کرنے کے لیے میں گورنمنٹ کے پاس گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ پ پشاور آئے ہوئے ہیں۔ میں نے سمجھا کہ میرا اخلاقی فرض ہے کہ پشاور پہنچ کر آپ کا شکر یہ ادا کروں ۔ چنانچہ میں کام چھوڑ کر یہاں آیا ہوں ۔ اب دیکھو! نہ میں اُسے جانتا تھا اور نہ اس سے کوئی دوستانہ تعلقات تھے ۔ مگر ایک گھنٹہ کی تکلیف جو ہم نے اٹھائی اُس کی وجہ سے وہ میدان جنگ سے پشاور پہنچا تا کہ میرا شکر یہ ادا کرے۔ پس ہمیشہ دوسروں کی خدمت کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن سے آپس میں محبت قائم ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی خدمت نہیں کرتے تو آپس میں محبت کیسے پیدا ہو گی ۔ ایک عیسائی کہتا ہے کہ ہمیں ہمارا مذہب کہتا ہے کہ ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے۔ ایک ہندو کہتا ہے کہ مجھے میرا مذہب کہتا ہے کہ دوسرے سے محبت کروں ۔ ایک مسلمان کہتا ہے کہ مجھے میرا مذہب دوسروں سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی نہیں سمجھتا کہ یہ محبت پیدا کیسے ہوگی ۔ عیسائی لاکھ شور مچائیں کہ ہمیں مذہب ایک دوسرے سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے مگر جب تک وہ ٹیونیشیا 1 اور مرا کو اور دوسرے ملکوں کی دولت کو ٹوٹتے رہیں گے محبت کہاں پیدا ہوگی ۔ اگر ہندوؤں کے ملک میں مسلمانوں سے سختی برتی جاتی ہے اور تھوڑی سی بات پر بھی اُن پر شبہات کئے جاتے ہیں اور انہیں مارا جاتا ہے تو محبت کہاں پیدا ہوگی ۔ پھر اگر مسلمان ممالک میں غیر مذاہب والوں اور کمزور قوموں سے ہمدردی کا سلوک نہیں کیا جاتا تو وہ لاکھ قرآن پیش کریں محبت پیدا نہیں ہوگی ۔ محبت عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر تم عمل نہیں کرتے محض ظاہری دکھاوا کے طور پر لیکچر دے دیتے ہو کہ آپس میں محبت کرنی چاہیے تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا ۔ پس ہر ایک انسان اور پھر ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہیے اور پھر ہر احمدی کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ ایسے مواقع پر صحیح طور پر خدمت کرے ۔ یہ نہیں کہ وہ سرسری طور پر چلا جائے ۔ اس کا سرسری