خطبات محمود (جلد 34) — Page 355
خطبات محمود 355 $1953 دوسری چیز خدمت ہوتی ہے۔چند لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو مقررہ دنوں میں ہر سال ملے جاتے ہیں۔مثلاً ہائی اسکول ، کالج، اور جامعہ احمدیہ کے اساتذہ اور طالب علم ہیں یہ تو بن بنایا ذخیرہ ہیں۔جن سے وقت پر کارکن لے لیے جاتے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وقت سے پہلے انہیں اس بات کی ٹرینینگ دی جائے۔کوئی بات بھی بغیر سمجھانے اور مشق کرنے کے نہیں ہے آتی۔چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی مشق کرنے اور پوری طرح سمجھنے سے پہلے کیا جائے تو اس میں نقص رہ جاتا ہے۔یور بین لوگوں میں یہ خوبی ہے کہ وہ ہر کام سے پہلے ریہرسل (REHEARSAL) کرتے ہیں۔ابھی ملکہ برطانیہ کی تاجپوشی ہوئی تو وہاں تمام امور کا ریہرسل کیا گیا۔جس سے ہر شخص کو یہ پتا لگ گیا کہ اس نے کہاں سے آنا ہے۔کہاں بیٹھنا ہے اور کیا کام کرنا ہے۔سب لوگوں کی مشق ہوگئی اور وقت پر کسی غلطی کا امکان نہ رہا۔ہمارے ہاں بھی ہر کام کی ریہرسل ہونا چاہیے۔اسکولوں میں جو سہ ماہی ، ششماہی اور نو ماہی امتحانات ہوتے ہیں اُن کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ طلباء کو بتایا جائے کی کہ انہوں نے سالا نہ امتحان کے موقع پر کیا کرنا ہے اور کیا کیا احتیاطیں اُن کے لیے ضروری ہیں۔جلسہ سالانہ سے قبل اگر تمام طالب علموں کو اُن کے کام کی ریہرسل کرا دی جائے تو وقت پر غلطی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔تمام کارکن اپنے اپنے کام پر مقرر ہوں اور مصنوعی طور پر یہ فرض کر لیا جائے کہ آج کام شروع ہے۔جن کارکنوں نے گھروں پر کھانا لے جانا ہے۔ان کے حصہ کے مکان ان کو بتا کر اُن سے تجربہ کام لیا جائے۔وہ اُن گھروں پر پہنچ جائیں ، اُن کو پہچانیں اور گھر والوں کے واقف ہوں۔اور جن کا رکنوں نے لنگر خانہ میں کام کرنا ہے اُن کے لیے ایک جگہ کو مصنوعی طور پر لنگر خانہ تجویز کر لیا جائے اور فرض کر لیا جائے کہ کام شروع ہے۔سب کا رکن وقت پر کیں اور اپنا اپنا کام سنبھال لیں۔اس ریہرسل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وقت پر دقت نہیں ہوگی۔جو ملک امن کے دوران میں اپنی فوجوں کو جنگ کی مشق کراتے رہتے ہیں اُن کی فوجیں وقت آنے پر اچھی طرح لڑتی ہیں۔اور جو ملک امن کے دوران میں اپنی فوجوں کو جنگی مشق نہیں کراتے اُن کی فوجیں محض ہجوم ہوتی ہیں۔اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔دشمن کے حملے کے وقت اُن سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔آج سے سو سال پہلے ایشائی ممالک میں عام طور پر اس قسم کی فوجیں ہوتی تھیں کہ امن کے وقت میں انہیں جنگی مشق نہیں کرائی جاتی تھی۔