خطبات محمود (جلد 34) — Page 351
$1953 351 خطبات محمود کو ڈیڑھ دو سو روپیہ ماہوار دے دینا اس سے تبلیغ وسیع نہیں ہو سکتی۔اتنی رقم تو اُن ملکوں کے لحاظ سے ایک مبلغ کی خوراک کے لیے بھی کافی نہیں۔ہم نے اگر تبلیغ کو وسیع کرنا ہے تو آہستہ آہستہ ہمیں مبلغوں کے اخراجات کو کم از کم اُن ملکوں کے مزدور کے برابر کرنا پڑے گا۔اور انہیں کافی مقدار میں سائر اخراجات دینے پڑیں گے تا وہ ملک میں دورے کر سکیں ، لیکچر دے سکیں ، کتب اور پمفلٹ شائع کر سکیں۔اگر موجودہ مشوں کے پر ہی ہم آئندہ تبلیغ کی بنیاد رکھیں اور سائز کے اخراجات کافی مقدار میں دیں تو موجودہ اخراجات سے دو گنے اخراجات کم سے کم ہمیں برداشت کرنے ہوں گے۔اس وقت ہمارا کل بجٹ ساڑھے چارلاکھ کا ہے۔گویا ہم نو لاکھ روپے سے محمد و دطور پر تبلیغ کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم یورپین طریق پر چلیں تو ہم موجودہ مبلغوں سے اٹھارہ لاکھ روپیہ خرچ کر کے کام لے سکتے ہیں۔اگر ہم اٹھارہ لاکھ کی روپیہ تبلیغ کے لیے خرچ کریں تو ہمارے مبلغ دورے کر کے مختلف شہروں میں لیکچر دے سکتے ہیں۔لیکچروں کے لیے ہال کرایہ پر لے سکتے ہیں، بڑے لوگوں سے مل سکتے ہیں لٹریچر شائع کرنے اور کی سے تقسیم کرنے کے ذریعہ تبلیغ کو وسیع کر سکتے ہیں۔لیکن ہمارے موجودہ مبلغین تو نہایت محدود تعداد میں ہیں۔کجا چھپن لاکھ اور گجا دوسو۔گویا ہماے مبلغین عیسائی مبلغین کا اٹھائیس ہزارواں کی حصہ ہیں۔یعنی اٹھائیس ہزار روپے کے مقابلہ میں تمہاری حیثیت صرف ایک روپیہ کی ہے۔لیکن پھر بھی اگر موجودہ مشنوں کو اعلی پیمانے پر قائم کیا جائے ، اگر انہیں سائر اخراجات عمدگی سے دیئے جائیں تو وہ کئی گنا زیادہ کام کر سکتے ہیں۔ہم عام طور پر ایک مبلغ کو چار پانچ پونڈ ماہوار تبلیغ کے لیے یتے ہیں۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ کیا وہ اس رقم میں ملک کے وسیع دورے کر سکتا ہے۔وہ لٹریچر شائع کر سکتا ہے؟ وہاں تو ایک لیکچر کے لیے اتنی رقم میں ایک دفعہ ایک ہال ہی کرایہ پر لیا جاسکتا ہے۔پھر وہ اس جگہ تک پہنچے گا کس طرح ؟ پھر انٹرسٹ رکھنے والوں کو لٹریچر کیسے مہیا کرے گا ؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اپنے مبلغین کو کم از کم سو سو پونڈ ماہوار سائر کے لیے دیں تو انہیں کسی حد تک آزادی نصیب ہوسکتی ہے کہ وہ ملک کے دورے کریں ، لیکچر دیں اور لٹریچر تقسیم کری سکیں۔اُس دن کے لیے ہمیں تیار ہونا چاہیے اور یہ تیاری تبھی ہوسکتی ہے جب جماعت کا ہر فرد یہ محسوس کرے کہ اُس کی زندگی کے تمام کاموں میں سے سب سے اہم کام تبلیغ اور اشاعت اسلام ہے۔