خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 339

1953ء 339 خطبات محمود اگلے سال ضرور فصل زیادہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر حکومتی معیار پر یہ بات کبھی کامیاب نہیں ہوتی ۔ اس میں زمیندار کا تعاون لازمی ہے۔ اس کے تعاون کے بغیر حکومت کی سب تدبیر پیچ جاتی ہے۔ دیکھ لو اس دفعہ امریکہ سے غلہ منگوایا گیا۔ لیکن گورنمنٹ کے تمام افسر ، پیداوار زیادہ کرنے کے لیے زور لگا رہے ہیں اور جب ملک میں غلہ بڑھ جائے گا اور باہر سے غلہ کم آئے گا ۔ تو اس کی قیمت گر جائے گی ۔ پچھلی جنگ کے بعد گندم کی قیمت سو ا روپیہ فی من تک پہنچ گئی تھی ۔ ایک دفعہ لائل پور کے ایک خوشحال زمیندار قادیان آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میری سر سکندر حیات صاحب کے پاس سفارش کریں ( وہ اُن دنوں ریو نیومنسٹر تھے ) میں اس بات کے لیے تیار ہوں کہ حکومت مجھ سے ساری گندم لے جائے لیکن گرفتار نہ کرے۔ اس سال گندم کی قیمت اتنی کم ہے کہ میں ریونیو سارا ادا نہیں کر سکتا ۔ پچھلے سال زیورات بیچ کر میں نے مالیہ ادا کیا تھا ۔ اس سال زیورات بھی نہیں ہیں مجھے بند ہونے کا خطرہ ہے۔ کیونکہ میں سخت کانگرسی رہا ہوں ۔ اس وقت مجھے آپ کے سوا کوئی نظر نہیں آیا جس کے سامنے دستِ سوال دراز کروں ۔ آپ اتنی مہربانی کریں کہ اُن کے پاس میری یہ سفارش کر دیں کہ حکومت ساری گندم لے لے اور باقی مالیہ مجھ پر قرض رکھے کیونکہ میں اُس کے ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ یہ بات بہت ہی تکلیف دہ تھی۔ میں نے سر سکندر حیات صاحب کو خط لکھا کہ اگر یہ واقعات صحیح ہیں تو ہر شریف آدمی آدمی کا کا دل رحم سے بھر جائے گا۔ آپ اس واقعہ کو دیکھ لیں ۔ اگر یہی حالات ہوں تو محض اس لیے کہ وہ کسی وقت کانگرسی تھا یا اب کانگرسی ہے اُسے مارنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ وہ آدمی شریف الطبع تھے ۔ انہوں نے چوتھے یا پانچویں دن اس کا جواب لکھوایا۔ انہوں نے خود تو خط نہ لکھا بلکہ میاں محمد ممتاز صاحب دولتانہ کے والد مرحوم سے لکھوایا جن کے مجھ سے بھی دوستانہ تعلقات تھے اور سردار سکندرحیات صاحب سے بھی دوستانہ تعلقات تھے ۔ انہوں نے لکھا کہ جن صاحب کے نام آپ کی سفارش آئی تھی انہوں نے کہا ہے کہ آپ کے مشورہ کے مطابق کام کر دیا جائے گا ۔ بہر حال اُس وقت گندم کی قیمت گر جانے کی وجہ سے یہاں تک نوبت پہنچی تھی کہ ایک شخص جو آسودہ حال تھا وہ ضلع لائلپور میں نہایت اعلیٰ سات آٹھ مربعوں کا مالک تھا لیکن گندم کی قیمت اتنی گر گئی تھی کہ ساری گندم کے دے دینے کے بعد بھی مالیہ رہ جاتا تھا اور وہ ادا نہیں کر سکتا تھا ۔