خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 322

1953ء 322 خطبات محمود ہوگا اُس کا ناک بہہ رہا ہوگا ، اُس پر مکھیاں بیٹھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے لوگ اُس سے نفرت کریں گے ۔ پس اپنے عیب کو ظاہر ہونے دینا ، چاہے وہ مجبوری اور بے گناہی کا نتیجہ ہو ، بد تہذیبی ہے کیونکہ اس سے دوسروں کے اندر نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اور مزید براں بیوقوفوں کو اُس کی نقل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یا مثلاً کوئی شخص دوسرے کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تو اُس کے آگے سے بوٹی اٹھالے اور خیال کرے کہ کیا ہے۔ وہ دوست ہی تو ہے۔ تو یہ بدتہذیبی ہوگی ۔ کیونکہ مومن کو یہ حکم ہے کہ كُلِّ بِيَمِينِكَ وَ كُلِّ مِمَّا يَلْیک 1 یعنی دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اُس چیز کو کھاؤ جو تمہارے سامنے ہو ۔ آخر مومن کے بھی دوست ہوتے ہیں ۔ لیکن دوسرے کے کھانے میں اُس کی اجازت کے بغیر ہاتھ ڈالنا وہ جائز نہیں سمجھتا۔ بے شک اسلام نے یہ اجازت دی ہے کہ دو تین آدمی مل کر ایک برتن میں کھانا کھا سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہ بغیر دوسرے کی مرضی کے اس کے آگے سے کھانا کھا لیا جائے ۔ یہ جائز نہیں ۔ مثلاً دوسرے کے سامنے گردہ کی بوٹی رکھی ہے وہ اٹھا کر کھالی ۔ اب چاہے دوسرے کو گردہ ناپسند ہی ہولیکن یہ اُس کا کام ہے کہ وہ دوسرے کو دے ۔ دوسرے کا حق نہیں کہ وہ خود اٹھا کر کھا لے ۔ ہے۔ وہ اب یہ بات بظاہر معمولی ہے۔ لیکن ایک شخص کو ہم مہذب کہتے ہیں اور دوسرے کو غیر مہذب کہتے ہیں۔ کیونکہ ایک شخص اپنی خواہش کو چھپا لیتا ہے اور دوسرا شخص اپنی خواہش چھپا نہیں سکتا۔ اور یہ بھی ایک عیب ہے کہ دوسرے کی چیز کی خواہش کی جائے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صراحتاً فرما تا اللہ وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيُوةِ الدُّنْيَا -2 یعنی ہم نے جو کچھ بعض لوگوں کو دنیوی زندگی کی زیبائش کے سامان دے رکھے ہیں ۔ تو اس کی طرف اپنی دونوں آنکھوں کی نظر کو پھیلا پھیلا کر مت دیکھ ۔ جیسے دوسرے کے آگے سے گردہ یا کلیجی کی بوٹی یا ہوگا۔ اٹھا کر کھالی جائے یا انڈا اور آلو کا ٹکڑا اٹھا کر کھا لیا جائے ۔ تو یہ جائز نہیں ہوگا ۔ بے شک گردہ، کلیجی ، انڈا اور آلو حلال ہیں ۔ لیکن جو چیزیں دوسرے کے آگے پڑی ہیں وہ اُس کے لیے حلال نہیں ۔ کیونکہ ا کیونکہ الہی حکم ہے کہ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ اٹھانے والا بے شک ایک حلال چیز اٹھاتا ہے۔ لیکن اُسے یا د رکھنا چاہیے کہ جب وہ حلال چیز کسی دوسرے شخص کے آگے پڑی ہوگی تو اُس کے لیے حلال نہیں ہوگی ۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ نے