خطبات محمود (جلد 34) — Page 21
1953ء 21 خطبات محمود اداروں میں سے کسی ادارے نے نہ ابھی تک کوئی سکیم تیار کی ہے اور نہ وہ میری ہدایت کے مطابق کام کر سکے ہیں ۔ ہم 5 سال سے وطن سے بے وطن ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے گزشتہ 5 سال میں دوسری قوموں سے زیادہ کام کیا ہے۔ ہم نے قادیان سے نکل کر اس نئے شہر کی تعمیر کی ہے اور اب شہر کی کچھ شکل بن گئی ہے۔ پہلے یہ حال تھا کہ اس جگہ پر لوگ اکیلے چلتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔ لیکن اب یہاں ہزاروں کی آبادی ہے اور یہ بستی ایک شہر کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔ ہمارے بہت سے ادارے ابھی بنتے ہیں۔ تعلیم الاسلام کا لج ابھی بننا ہے۔ کالج کا ہوسٹل ابھی بننا ہے۔ زنانہ ہائی اسکول ابھی بننا ہے۔ زنانہ کالج کا بقیہ حصہ اور اس کا ہوسٹل ابھی بننا ہے۔ جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمد یہ ابھی بننا ہے۔ ہسپتال ابھی بننا ہے۔ ابھی بہت سے کوارٹرز بننے ہیں۔ پھر جماعت کے دوستوں نے جنہوں نے یہاں زمین خریدی تھی ابھی اپنے مکان بنانے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت روز بروز گر رہی ہے۔ میں برابر 4 سال سے صدر انجمن احمد یہ کو کہہ رہا تھا کہ وہ اس وقت کے چندوں پر بجٹ کی بنیاد نہ رکھے۔ لیکن باوجود میری اس ہدایت کے انہوں نے اس چیز کا لحاظ نہیں رکھا۔ اب سلسلہ کی مالی حالت نہایت خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ اگر میں اس کی تفصیل بیان کروں تو تم میں سے کئی لوگ ٹھو کر کھا جائیں۔ لیکن صدرانجمن احمد یہ کو اس کا کوئی احساس نہیں ۔ شاید یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر دفاتر کے دروازے بند ہو گئے تو ہم کرسیوں کی خاک جھاڑ کر الگ ہو جائیں گے۔ بہر حال ایک کٹھن منزل ہمارے سامنے ہے اور اتنی مشکلات ہمیں در پیش ہیں کہ ایک سمجھ دار انسان جسے خدا تعالیٰ پر توکل نہ ہولیکن بے وقوف نہ ہو اُس کا دل ان مشکلات کو دیکھ کر ساکن ہو جائے اور وہ مر جائے ۔ مگر ہمیں دوسری قوموں پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ ہمارا ایک زندہ خدا کے ساتھ تعلق ہے۔ ہماری حالت ایک بچے کی سی تو ہے۔ اُس بچے کی سی جو تیر نا نہیں جانتا اور وہ تالاب میں گر گیا ہے اور بظاہر اس کے ڈوبنے کے سامان ہو چکے ہیں۔ لیکن ہماری حالت اُس بچے کی سی ہے جس کا باپ تالاب کے کنارے پر کھڑا ہے اور وہ دنیا کا بہترین تیراک ہے۔ پس ہمارے بچہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ ہمارے تالاب میں گر جانے میں کوئی شبہ نہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُس تالاب کا پانی ایسا ہے کہ اس میں ایک بچہ کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ وہ تالاب زیادہ گہرا ہے لیکن ہمیں دوسری قوموں پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ ہمارا ایک زندہ خدا کے ساتھ تعلق ہے ۔ ہم اگر چہ تالاب میں گر گئے ہیں اور بظاہر ہمارے