خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 20

خطبات محمود 20 20 $1953 لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ خلیفہ اور جماعت کے درمیان انجمن کی ایک دیوار کھڑی ہے۔کام لینے والی انجمنیں ہیں۔سکیم خلیفہ بناتا ہے۔اور کام کرنے والی جماعتیں ہیں۔انجمنوں نے خلیفہ وقت کی سکیموں کو جماعت کے سامنے کبھی ایسی تفصیلات کے ساتھ پیش نہیں کیا کہ وہ کوئی مفید کام کر سکیں نہ ناظروں نے صحیح طور پر کبھی کام کیا ہے۔جب تک سکیمیں جماعت کے سامنے اس صورت میں پیش نہ کی جائیں کہ وہ کوئی مفید نتیجہ پیدا کر سکیں اُس وقت تک لازمی طور پر جماعت کی صحیح راہنمائی کی نہیں ہو سکتی۔کاغذی سکیم اور عملی سکیم میں فرق ہوتا ہے۔عملی سکیم میں اسے ہر علاقہ کے لوگوں اور ان کے نی حالات کو دیکھ کر ان کے مطابق بنایا جاتا ہے۔جب تک افراد کو منظم نہ کیا جائے ، جب تک ان کے حالات کے مطاق سکیم کی شکل نہ بدل جائے ، جب تک ایسے کارکن مقرر نہ کئے جائیں جو اس سکیم پر افراد سے عمل کرائیں اُس وقت تک کوئی کام صحیح طور پر نہیں ہوسکتا۔پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دوسرے بیرونی ممالک کے لیے صدر انجمن احمدیہ پاکستان ذمہ دار ہے کہ وہ جماعتوں سے صحیح رنگ میں کام لے۔اور ہندوستان کے لیے صدر انجمن احمد یہ ہندوستان مقرر ہے۔میں نے پچھلی دفعہ بھی جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ جب تک عملی طور پر ہم کوئی کوشش نہیں کریں گے ہم کوئی کام نہیں کر سکتے۔میں نے کہا تھا کہ ہمارے نئے سال میں سے بارہ دن گزر گئے ہیں اور اب 19 دن گزر گئے ہیں گویا سال کے 52 ہفتوں میں سے 3 ہفتے گزر گئے ہیں اور یہ قریباً سال کا 1/17 حصہ ہے۔اور اب ہم اپنے وقت کا 1/17 حصہ ضائع کر چکے ہیں اور اب 16 حصے باقی رہ گئے ہیں۔لیکن ابھی بہت سے ایسے لوگ ہوں گے جو جلسہ سالانہ کے چٹخارے لے رہے ہوں گے۔جو ابھی تک یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کس شان سے ہمارا جلسہ سالانہ گزرا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اس سال کی زندگی کے 17 حصوں میں سے ایک حصہ گزر چکا ہے۔اور اب گویا 7 6 فیصدی مزید زور لگا کر ہم اپنے ے کام میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔کیونکہ 16 ایک سو کا 64 فیصدی ہوتا ہے اور ہمارے نئے سال کی زندگی کے 17 حصوں میں سے صرف 16 حصے باقی رہ گئے ہیں۔یعنی ہمیں اس سال جتنی کوشش کرنی چاہیے تھی اب اُس سے 6 فیصدی زیادہ کوشش کرنی پڑے گی۔ورنہ پہلی کوشش سے ہم کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔کیونکہ ہم نے ایک سال کی زندگی میں سے 1/17 حصہ ضائع کر دیا ہے۔لیکن ابھی تک ہمارے