خطبات محمود (جلد 34) — Page 287
1953ء 287 خطبات محمود جس کا کام اُس کی ذات تک محدود ہو اور اُس کی جماعت اُس کے کام میں شریک نہ ہو تو اگر مرزا صاحب مامور تھے اور جب کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ آپ کو دنیا میں اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا تو تمہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تم بھی مامور ہو۔ اگر مرزا صاحب مُلْهَمْ إِلَيْهِ تھے تو تم حامل الہام ہو۔ آپ کی طرف خدا تعالیٰ نے اپنا کلام نازل کیا اور پھر وہ کلام تمہاری طرف منتقل کیا ۔ جس طرح کہ تمام مامورین خلفاء اور مجددین کے کام ہوتے چلے آئے ہیں ۔ اسی طرح ۔ پ کا کام بھی آپ کے بعد جاری رہے گا۔ پس تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمہیں کسی مقصد کے لیے کھڑا نہیں کیا گیا۔ ، الله شاید تم یہ کہو کہ تمہارے سپرد جو کام کیا گیا تھا وہ پورا کرنا مشکل تھا۔ یعنی بنی نوع انسان کو اسلام کی طرف لانا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کو دوبارہ قائم کرنا مشکل امر ہے۔ اگر تم ایسا کہو تو یہ بھی غلط ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا -3- کہ اللہ تعالی کسی جان کے سپر دکوئی ایسا کام نہیں کرتا جس کے کرنے کی اُس میں طاقت نہ ہو۔ اس لیے جو شخص یہ کہتا ہے کہ اُس کے سپرد ایسا کام کیا گیا ہے جو ہو نہیں سکتا وہ خدا تعالیٰ کو جھوٹا قرار دیتا ہے ، وہ قرآن کریم کی تکذیب کرتا ہے، وہ محمدرسول اللہ ﷺ اللہ کے دین کی تردید کرتا ہے۔ وہ قرآن کریم جو ساری کتابوں سے اکمل اور مکمل کتاب ہے، وہ قرآن کریم جو آخری شریعت ہے، وہ قرآن کریم جو خاتم النبین پر نازل ہوا تھا جس کی شان کی اور کوئی کتاب نہیں وہ کہتا ہے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا یعنی اللہ کے سپر اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی جان کے سپر د ایسا کام نہیں کرتا جس کے کرنے کی اُس میں طاقت نہ ہو۔ اس لیے ماموروں کے سلسلہ میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب کوئی کام کسی کے سپر د کیا جاتا ہے تو وہ اس کے متعلق یہ سوچتا نہیں کہ آیا میں اس کام کو کر سکتا ہوں یا نہیں ۔ حالانکہ دنیا میں جب کسی انسان کے سپرد کوئی کام کیا جاتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ شاید میں اس کام کو نہ کر سکوں ۔ اگر کوئی بادشاہ کسی جرنیل کو یہ حکم دیتا ہے کہ فلاں جگہ بغاوت ہو گئی ہے ہم اُس بغاوت کو فرو کرنے کے لیے تمہیں کھڑا کرتے ہیں ۔ تو وہ سوچتا ہے کہ معلوم نہیں وہ اس بغاوت کو دور بھی کر سکتا ہے یا نہیں۔ اگر کسی کالج کا نظام بگڑا ہوا ہو ۔ اور کسی شخص کو کہا جائے کہ تمہیں اس کا پرنسپل مقرر کیا جاتا ہے۔ تم اس کی اصلاح