خطبات محمود (جلد 34) — Page 272
$1953 272 خطبات محمود کہ وہ ہم سے پہلے ایسا کر رہے ہیں۔پھر ہم یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم اُن سے چھ سو سال بعد میں آئے ہیں۔اگر بعض باتیں انہوں نے اچھی نکالیں تو اس میں کیا حرج ہے۔پس ترجمہ والا قرآن کریم ہر گھر کی میں موجود ہونا چاہیے۔پھر ہر شخص کو یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ وہ ترجمہ پڑھے یا سنے۔اس طرح ہر ایک کے دل میں یہ شوق پیدا ہو جائے گا کہ وہ عربی سیکھے اور قرآن کریم کا ترجمہ سیکھے۔ایک عیسائی کو یہ شوق نہیں ہوگا کیونکہ اُن کے پاس جو بائیل ہے اُس کے اوپر یونانی لاطینی یا عبرانی الفاظ نہیں ہوتے۔صرف اُن کی اپنی زبان میں اُس کا ترجمہ ہوتا ہے۔لیکن قرآن کریم کے الفاظ لا ز ما ساتھ ہوتے ہیں اس لیے جب کوئی شخص ترجمہ پڑھے گا تو وہ عربی الفاظ کے معنی سیکھنے کی بھی کوشش کرے گا۔اس طرح اس کی تعلیم مکمل ہو جائے گی۔بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ایک عام عربی دان اور ایک عام مولوی کے لیے بھی زیادہ فائدہ بخش یہی چیز ہے کہ وہ ترجمہ پڑھے۔کیونکہ اپنی زبان میں جس طرح مفہوم سمجھ میں آجاتا ہے دوسری زبان میں نہیں آتا۔چند دن بھی ایسا کرو تو تم دیکھو گے کہ تمہیں اتنا دین آجائے گا۔جو تمہیں بیسیوں سال میں نہیں آیا تھا۔اس لیے نہیں کہ تمہاری عربی ناقص تھی بلکہ اس لیے کہ تمہیں اس میں ہے 66 سوچنے کی مشق یہ تھی۔“ خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا:۔میں نماز کے بعد بعض جنازے پڑھاؤں گا۔میں چونکہ پہلے سفر پر تھا اور پھر بیمار ہو گیا تو اس لیے بہت سے جنازے جمع ہو گے ہیں۔19 آدمیوں کے جنازے ہیں جو میں نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔1 - سید مشتاق احمد صاحب ہاشمی ٹریکٹر کے اچانک اُلٹ جانے کی وجہ سے فوت ہو گئے ہیں۔2۔چودھری عمر دین صاحب بنگہ صحابی تھے۔فالج گرنے کی وجہ سے جھنگ میں فوت ہو گئے ہیں۔3۔آمنہ بی بی صاحبہ بیوه ناصرالدین صاحب صدر گوگیرہ موصیہ تھیں۔بہت کم لوگ جنازہ میں شریک ہوئے۔4۔محمد عثمان صاحب ولد سردار محمد نواز خان صاحب جھڈو۔پٹرول میں آگ لگ جانے کی وجہ سے وفات پاگئے ہیں۔بہت کم لوگ جنازہ میں شریک ہوئے۔5۔چودھری فضل احمد صاحب ڈسکہ صحابی تھے۔ان کی خواہش تھی کہ میں نماز جنازہ پڑھاؤں۔