خطبات محمود (جلد 34) — Page 263
$1953 263 خطبات محمود فائدہ اٹھائیں۔پس میں اپنے تھوڑے سے آدمیوں کو ان میں ملا کر خراب نہیں کرنا چاہتا۔میں چاہتا ہوں کہ مجھ پر ایمان لانے والے اپنے تقویٰ اور دیانتداری میں دوسروں کے لیے نمونہ ہوں۔اور واقع میں اگر ہماری جماعت کے افراد ایمان دار ہوں اور ان کے اندر صحیح اسلامی روح پائی جاتی ہو تو مسلمان تو الگ رہے، دوسرے لوگ بھی جو قرآن اور حدیث کو نہیں مانتے ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جائیں۔مسلمان تو قرآن اور حدیث کو مانتے ہیں اور وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری اُن سے علیحدگی کے یہ معنی نہیں کہ ہم اُن سے قطع تعلق کر لیتے ہیں ، علیحدگی کے یہ معنی نہیں کہ ہم ان کے دُکھ سکھ میں شریک نہیں ہوتے ، علیحدگی کے یہ معنی نہیں کہ ہم اُن کی خوشیوں میں شریک نہیں ہوتے ، علیحدگی کے یہ معنی نہیں کہ ہم ان کی ترقی کے امور میں دلچسپی نہیں لیتے۔ہم اُن کی ہر خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں اور ان کی ترقی کے ہر معاملہ میں دلچسپی لیتے ہیں۔لیکن پھر اپنا علیحدہ وجود اور نظام بھی قائم رکھتے ہیں تا کہ ہم اسلام کی خدمت کر سکیں۔اور دوسروں کو بھی تحریک ہو کہ وہ بھی اسی رنگ میں اسلام کی خدمت میں حصہ لیں۔یہی غرض احمدیت کی ہے ورنہ نہ ہمارا قرآن نیا ہے نہ حدیث نئی ہے نہ فقہ کی کوئی ایسی کتابیں ہمارے پاس ہیں جو دوسروں کے پاس نہیں۔اُن کے پاس بھی وہی قرآن، اور وہی حدیث اور وہی فقہ کی کتابیں ہیں۔لیکن اُن کے دلوں میں ان کتابوں کی کوئی قدر نہیں رہی تھی۔اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ تم ان چیزوں کی قدر کرو۔اور اگر تم بھی قدر نہ کرو تو تمہارے وجود کا کوئی فائدہ نہیں اور تمہارے الگ وجود بنانے کا کوئی مقصد نہیں۔“ (غیر مطبوعہ مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ )