خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 234

1953ء 234 28 خطبات محمود جب قرآن کریم کہتا ہے کہ حزب اللہ غالب ہوگا تو ہم کس طرح اس کے خلاف کہہ سکتے ہیں (فرموده 14 اگست 1953ء بمقام ناصر آباد۔ سندھ ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ وو دنیا میں دو قسم کی حکومتیں ہوا کرتی ہیں ۔ ایک عقل اور سمجھ سے کام لینے والی اور دوسری دوقسم ۔ زور اور طاقت سے کام لینے والی ۔ ہر زمانہ کے محاورے الگ الگ ہوتے ہیں ۔ آج کل جو حکومت عقل اور سمجھ سے کام لے اُس کو جمہوریت کہتے ہیں اور جو حکومت زور اور تشدد اور طاقت سے کام لے اُس کو ڈکٹیٹر شپ یا ہٹلر ازم بھی کہہ دیتے ہیں ۔ مگر نام خواہ کچھ ہی ہو جب سے دنیا بنی ہے یہ دونوں طاقتیں کام کرتی آرہی ہیں ۔ حضرت آدم کے زمانہ سے یہ کام شروع ہوا اور اب تک جاری ہے ۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے دو بیٹے تھے۔ ایک کی اللہ تعالیٰ نے قربانی قبول کر لی اور دوسرے کی رد کر دی 1 ۔ ایک کے پیچھے اخلاص اور تقویٰ تھا اس لیے اُس کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی کے پیچھے چونکہ اخلاص اور تقویٰ نہیں تھا اس لیے وہ رد ہوئی ۔ اب دانائی تو یہ تھی کہ دوسرا شخص جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی تھی اپنے اندر تقویٰ ، عجز اور انکسار پیدا کرتا، اور سمجھتا