خطبات محمود (جلد 34) — Page 212
1953ء 212 خطبات محمود پر سیر کے لیے گیا۔ جب ہم کشتیوں پر سوار ہوئے اور وہ چلنے لگیں تو ایک سوار نے اُس وقت قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی کہ بِسْمِ اللهِ مَجْرَتهَا وَ مُرْسَهَا 5 یہ آیت ایسی ہے جسے ننانوے فیصد مسلمان غلط پڑھتے ہیں یعنی بجائے مَجْر تھا پڑھنے کے اُسے مَجْرِهَا پڑھتے ہیں ۔ چنانچہ مجھے اس کے متعلق ایک لطیفہ یاد ہے۔ قادیان میں ایک عرب رہتے تھے جو حافظ بھی تھے۔ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول درس دے رہے تھے کہ یہی آیت آ آیت آ گئی ۔ آپ نے فرمایا میں دوستوں کو ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں کہ عام طور پر لوگ اس آیت کو غلط پڑھتے ہیں اور پھر آپ حافظ صاحب کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا کیوں حافظ صاحب ! کیا یہ درست ہے یا نہیں کہ لوگ عموماً یہ آیت غلط پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں حضور ! لوگ غلط پڑھتے ہیں ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا میں نے تو دیکھا ہے کہ ننانوے فیصدی مسلمان یہ آیت غلط پڑھتے ہیں ۔ حافظ صاحب نے بھی کہا کہ ہاں ! حضور واقعہ یہی ہے کہ ننانوے فیصدی مسلمان یہ آیت غلط پڑھتے ہیں ۔ آپ نے ہنس کر فرمایا عرب صاحب کہیں وہی بات نہ ہو جائے جو پرانے زمانہ میں ایک عالم کے ساتھ ہوئی تھی ۔ پھر آپ نے سنایا کہ سیبویہ جو مکہ کا ایک بہت بڑا عالم گزرا۔ ، بڑا عالم گزرا ہے وہ ایک دفعہ ایک عباسی خلیفہ کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ کسی لفظ کے متعلق بحث شروع ہوگئی ۔ سیبویہ نے کہا کہ یہ لفظ یوں ہے اور بادشاہ کے استاد نے کہا کہ یوں ہے۔ بادشاہ کو سیبویہ پر غصہ آیا کہ جب ہما را استاد کہتا ہے کہ یہ لفظ یوں ہے تو تم اس کے خلاف کیوں کہتے ہو؟ سیبویہ نے کہا کہ حضور ! شہر کے باہر بعض قبائل تجارت کے لیے آئے ہوئے ہیں اُن کی زبان زیادہ شستہ اور صاف ہوتی ہے۔ آپ اُن میں سے کسی کو بُلا کر پوچھ لیجیئے کہ یہ لفظ کس طرح ہے ۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا ۔ اور اس نے ایک شخص کو بھجوادیا کہ وہ باہر جا کر کسی شخص کو اپنے ساتھ لے آئے ۔ وہ شخص جو قبائلیوں کو بلوانے کے لیے بھیجا گیا تھا وہ بادشاہ کا خوشامدی تھا۔ راستہ میں انہیں سمجھاتا چلا آیا کہ بادشاہ کے استاد اور سیبویہ کی آپس میں بحث شروع ہو گئی ہے۔ سیبو یہ کہتا ہے کہ یہ لفظ یوں ہے اور ہمارے بادشاہ کا استاد کہتا ہے کہ یوں ہے ۔ تم سے بھی اس بارہ میں دریافت کیا جائے گا۔ تم وہی کہنا جو بادشاہ کا استاد کہتا ہے ۔ اس طرح تمہیں بادشاہ کی طرف سے انعام مل جائے گا۔ جب وہ دربار میں آئے تو بادشاہ نے کہا۔ دیکھو ! فلاں عالم کہتا ہے کہ یہ لفظ اس طرح ہے اور سیبو یہ کہتا ہے اِس ط یہ کہتا ہے اس طرح ہے تم یہ بتاؤ کہ یہ لفظ کس طرح ہے؟ انہوں نے کہ