خطبات محمود (جلد 34) — Page 209
$1953 209 خطبات محمود حضرت علی ملے اور انہوں نے کہا کہ آج میں نے تمہیں سارا دن مکہ کا چکر لگاتے دیکھا ہے کیا تمہیں یہاں کچھ کام ہے؟ اُس نے کہا کام تو ہے مگر ابھی جس غرض کے لیے میں آیا تھا وہ پوری نہیں ہوئی۔انہوں نے پوچھا کہ کیا تمہارا کوئی ٹھکانا بھی ہے؟ اس نے کہا، ٹھکانا تو کوئی نہیں۔حضرت علیؓ نے کی کہا کہ پھر میرے ساتھ چلو اور جس مکان میں میں ٹھہرا ہوا ہوں وہیں رات گزار لو۔چنانچہ وہ حضرت علیؓ کے ساتھ آیا۔آپ نے اسے کھانا کھلایا اور پھر وہ آپ کے مکان کے ایک کو نہ میں ہی سوتی گیا۔اُسے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ جس شخص سے ملنے کے لیے میں مکہ میں آیا ہوں وہ بھی اسی مکان میں رہتا ہے۔دوسرے دن وہ پھر صبح کو نکلا اور شام تک اِدھر اُدھر پھرتا رہا۔حضرت علیؓ نے اُسے پھر دیکھ لیا کہ وہ مکہ کی گلیوں میں اپنی جوتیاں گھسا رہا ہے۔چنانچہ وہ پھر شام کو آپ سے ملے اور کہا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کام ابھی ہوا نہیں۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کیا کام ہے؟ اس نے کہا مجھے ایک آدمی کی تلاش ہے۔حضرت علیؓ نے کہا ، پھر کیا آج بھی کوئی ٹھکانا ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا کہ ٹھکانا تو کوئی نہیں۔حضرت علی اُسے ساتھ لے گئے ، کھا نہ کھلایا اور اپنے مکان میں سونے کو جگہ دی۔تیسرے دن وہ پھر صبح کو اٹھا اور اُس نے گلیوں اور بازاروں کا چکر لگانا شروع کر دیا اور شاء تک اسی طرح پھرتا رہا۔پھر حضرت علی اُسے ملے اور اُسے اپنے مکان پر لے آئے ، کھانا کھلایا اور سونے کو جگہ دی۔جب وہ صبح اُٹھ کر باہر جانے لگا تو حضرت علیؓ نے کہا کہ میزبان پر مہمان کا اور مہمان پر میزبان کا حق ہوتا ہے۔تین دن تمہیں یہاں پھرتے گزر گئے۔اب تو بتا دو کہ تم کس غرض کے کے لیے آئے ہو، تا کہ اگر میں بھی کچھ تمہاری مدد کر سکوں تو مدد کر دوں۔اس نے کہا میں وہ بات اس لیے نہیں بتا تا کہ ڈرتا ہوں کہ مکہ والے مخالفت نہ کریں۔آپ نے کہا میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری بات کا کسی اور سے ذکر نہیں کروں گا۔اس نے کہا کہ اگر آپ دیانتداری کے ساتھ یہ کی وعدہ کرتے ہیں تو پھر میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ میں یہاں اس لیے آیا ہوں کہ میں نے سنا ہے کیا یہاں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اُس سے ملوں اور خود اس کے حالات دریافت کروں۔حضرت علیؓ نے کہا تم نے ناحق اپنے تین دن ضائع کر دئیے۔اگر یہی بات تھی تو تم نے پہلے کیوں نہ بتادی۔چنانچہ وہ اُسے اُس جگہ لے گئے جہاں رسول کریم ﷺ تشریف رکھتے تھے تے اور آنے جانے والوں کو تبلیغ کرتے تھے۔اُس نے آپ کی باتیں سنیں اور مسلمان ہو گیا۔اور ی