خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 203

1953ء 203 خطبات محمود تھے کہ اُدھر سانپ کاٹتا تھا اور اِدھر وہ شخص مر جاتا تھا ۔ ہمارے آنے سے چند دن پہلے ہی یہاں ایک تحصیلدار دورہ کے لیے آیا اور وہ کرسی پر بیٹھ کر کام کرتا رہا۔ جب وہ تھک گیا تو اُس نے اپنا پاؤں نیچے لٹکایا۔ مگر ادھر اُس نے اپنا پاؤں زمین پر رکھا اور اُدھر فوراً اُسے کسی سانپ نے ڈس لیا اور وہ مر گیا ۔ غرض یہ حالت تھی اس علاقہ کی ۔ مگر اب یہ حالت ہے کہ لائل پور اور سرگودھا کی طرح یہ علاقہ بھی ترقی کر رہا ہے اور آٹھ دس سال کے بعد کسی کو خیال بھی نہیں رہے گا کہ یہاں جنگل ہوا کرتا تھا اور لوگ اس علاقہ میں آتے ہوئے اور رات کو باہر نکلتے ہوئے ڈرا کرتے تھے۔ ہمارا کوئی دوره محمود آباد اور احمد آباد کا ایسا نہیں ہوا کرتا تھا جس میں ہمیں سانپ کاٹے کا علاج نہ کرنا پڑتا ہو ۔ مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی شاذ کوئی ایسا کیس ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کو ایک نشان کے طور پر بنایا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مکہ کی بنیاد رکھوائی اور اُن سے یہ دعا کروائی کہ اے خدا ! تو اس وادی غیر ذی زرع کو برکت دے اور یہاں ایسے لوگ آئیں جو تیرے نام کو بلند کرنے والے اور تیرے دین کی خدمت کرنے والے ہوں ۔ اسی کے نمونہ اور نقشِ قدم پر خدا تعالیٰ نے یہ نشان دکھایا ہے اور ہمیں ایسی جگہ لے آیا جہاں ہمارے آنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ایسی جگہ لے آیا جہاں گورنمنٹ تک ہمیں زمین دینے کی مخالف تھی ۔ اور ایسی جگہ لے آیا جہاں اُس وقت ریل تک بھی نہیں تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو برکت دی۔ اور جب ریل گزری تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ریل کی پڑی ایسی جگہ رکھی گئی کہ ہر جگہ ہماری ہی زمینیں ریلوے لائن کے قریب آئیں اور ڈینی سر والے پیچھے رہ گئے ۔ چنانچہ احمد آباد کی زمین نبی سر روڈ کے قریب ہے جو ریلوے اسٹیشن ہے۔ محمد آباد کی زمین کے قریب ٹاہلی اسٹیشن بنا اور محمود آباد کے قریب کنری کا اسٹیشن بنا اور ناصر آباد کے قریب کنجیجی کا اسٹیشن بنا۔ غرض ریل بھی گزری تو ایسی طرز پر کہ وہ ہماری ہی زمینوں کو طاقت دیتی چلی گئی۔ یہ ایک الہی نشان ہے جو ظاہر ہوا۔ اور جس کی اہمیت ہماری جماعت کے افراد کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ احمد آباد میں جب ہم پہلی دفعہ آئے تو یہاں صرف دو کمرے تھے جن میں مینیجر رہا کرتا تھا۔ اور باقی لوگ جھونپڑوں میں رہا کرتے تھے۔ پھر اس سال جب ہم ناصر آباد میں گئے تو