خطبات محمود (جلد 34) — Page 198
1953ء 198 خطبات محمود س نے کہا کہ میں ہوں تو پاری لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ سخت ظلم ہے کہ انگریزوں کو زمین دے دی جائے اور آپ لوگ جو اس ملک کے باشندے ہیں آپ کو زمین نہ دی جائے ۔ لیکن میرے لئے لوئی راستہ کھلنا چاہیے جس پر چل کر میں آپ لوگوں کا حق آپ کو دلاسکوں ۔ اس نے کہا کہ ڈینی سر والوں کا بیس ہزار ایکڑ زمین کا مطالبہ تھا۔ ساڑھے سترہ ہزار ایکڑ زمین انہوں نے منتخب کر لی ہے اور اڑھائی ہزار ایکڑ زمین ابھی باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک یہ اڑھائی ہزار ایکڑ زمین بھی ہم منتخب نہ کر لیں اُس قت تک یہ زمین کسی اور کو نہ دی جائے ۔ جس وقت وہ یہ باتیں کر رہا تھا نرائن داس اُس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ جب وہ اپنی بات ختم کر چکا تو نرائن داس کھڑا ہو گیا ۔ یہ اُس کا پی ۔ اے تھا جسے اُس زمانہ میں چٹ نولیس کہا کرتے تھے ۔ اس نے کھڑے ہو کر کہا صاحب ! کیا آپ سچ مچ ان کو زمین دینا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا یہ بالکل درست ہے۔ میں واقع میں ان کو زمین دینا چاہتا ہوں اور مجھے یہ برا لگتا ہے کہ انگریز یہ ساری جائیداد لے جائیں ۔ مگر میرے لیے کوئی راستہ ہونا چاہیے جس پر چل کر میں انہیں زمین دے سکوں ۔ نرائن داس نے کہا اگر آپ سچ مچ ان کو زمین دینا چاہتے ہیں تو راستہ میں بتا دیتا ہوں ۔ چنانچہ اُس نے اپنی میز سے ایک چٹھی نکالی جو میجر و نرمینن کی لکھی ہوئی تھی ۔ ( یہی انگریز تھے جنہوں نے اس زمین کا سودا کیا تھا اور وہ مسٹر گوڑ والہ کو پڑھ کر سنائی ۔ اس چٹھی کا مضمون یہ تھا کہ ہم نے ہمیں ہزار ایکڑ کی درخواست دی ہوئی تھی جس میں سے ساڑھے سترہ ہزار ایکڑ زمین ہم نے چن لی ہے۔ باقی زمین چونکہ رڈی ہے اس لیے ہم وہ نہیں لینا چاہتے ۔ جب اس نے یہ چٹھی نکال کر دکھائی تو مسٹر گوڑ والہ نے کہالا ؤ کا غذا بھی میں ان کی زمین کی منظوری دیتا ہوں ۔ اب مجھے قانونی حق حاصل ہو گیا ہے جس کی بنیاد پر میں ڈینی سر کی درخواست کو رد کر سکتا ہوں ۔ چنانچہ اس نے کاغذات پر دستخط کیے اور یہ زمین ہمیں مل گئی۔ بعد میں ہمیں پتا لگا کہ میجر و نرمین نے جو اپنے نمائندے اس زمین کو دیکھنے کے لئے بھجوائے تھے انہوں نے اپنے گھوڑے سامنے کی طرف سے ڈالنے کی بجائے پیچھے کی طرف سے ڈالے۔ چنانچہ جب وہ محمود آباد کے پاس پہنچے ( اُن کی زمین محمود آباد کے ساتھ ہی لگتی ہے ) تو اتفاقا وہاں کچھ ردی زمین تھی۔ انہوں نے اُس ٹکڑا کو دیکھتے ہی اپنے گھوڑے موڑ لیے اور پھر وہ آگے گئے ہی نہیں ۔ انہوں نے یہی خیال کر لیا کہ یہ سب زمین رڈی اور ناقابلِ کاشت ہے۔ ادھر احمد آباد کے پاس انہوں نے سڑک