خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 197

1953ء 197 خطبات محمود دینی ہے۔ مسٹر ڈو نے مجھے بتایا ہے کہ گورنر بمبئی نے اسے لکھا ہے کہ مجھے وائسراے کی چٹھی ملی ہے کہ یہ زمین کسی اور کو نہ دی جائے بلکہ فلاں انگریز کو دی جائے ۔ اس کے بعد میری کیا طاقت ہے کہ کو ۔ میں اس حکم کو رڈ کر دوں اور یہ زمین انہیں دے دوں ۔ لیکن ادھر ان کی درخواست بھی آئی ہوئی ہے۔ اور ان کی درخواست پہلے کی ہے اگر ہم اس درخواست کو رد کر دیں اور انگریزوں کو زمین دے دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سارے ہندوستان میں شور مچ جائے گا کہ انگریز جو غیر ملکی ہیں ان کو زمین محض رسمی مقاطعہ 1 پر دے دی گئی ہے اور خود ہندوستانیوں کو زمین قیمت پر بھی نہیں دی گئی۔ حالانکہ ان کی درخواست پہلے کی ہے۔ اس وجہ سے ہم خاموش ہیں اور ٹلا رہے ہیں تا کہ ایک دن خود ہی یہ تنگ آکر چلے جائیں اور ہم یہ کہہ سکیں کہ چونکہ اس زمین کا کوئی اور گاہک نہیں رہا اس لیے ہم نے یہ زمین انگریزوں کو دے دی ہے۔ یہ حالات بتا کر سر اڈوائر نے کہا کہ آپ اس زمین کا خیال چھوڑ دیں اور کسی اور زمین کے متعلق درخواست دے دیں ۔ جب ہمیں یہ جواب ملا تو ہم نے پھر اپنے آدمی بھیجے کہ جاؤ اور پھر کسی زمین کا انتخاب کرو ۔ چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے اس زمین کا انتخاب کیا جہاں اب احمد آباد اور محمود آباد ہیں ۔ انہوں نے لکھا کہ یہ زمین بھی پہلی زمین کے ساتھ ہی ایک پہلو میں ہے اور ایک ٹکڑا اس کے اگلے رخ پر ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اٹھارہ سوایکٹر محمود آباد میں اور اکیس بائیس سوایکڑ احمد آباد میں خرید لئے جائیں ۔ میں نے کہا اجازت ہے۔ چنانچہ پھر ان دو ٹکڑوں کے متعلق درخواست دے دی گئی ۔ مگر اس درخواست کے بعد پھر خاموشی طاری ہوگئی اور جب کچھ عرصہ کے بعد ہم نے یاد دہانی کرائی تو پھر ہمیں یہی جواب ملا کہ ہم غور کر رہے ہیں ۔ ہم حیران ہوئے کہ یہ عجیب بات ہے کہ اور سب لوگوں کی درخواستیں منظور کر لی جاتی ہیں اور جب ہماری درخواست آئے تو کہا جاتا ہے کہ ابھی ہم غور کر رہے ہیں اس کی تہہ میں ضرور کوئی بات ہے ۔ چنانچہ ہم نے اپنا آدمی بھیجوایا کہ وہ افسر انچارج سے ملے اور اس بارہ میں گفتگو کر کے اس کے خیالات معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ ڈو صاحب کو اُس وقت ترقی مل گئی تھی اور ان کی جگہ مسٹر گوڑ والہ ایک پارسی کام کر رہے تھے۔ ان کا ایک پی اے 2 نارائن داس تھا۔ چودھری فتح محمد صاحب مسٹر گوڑ والہ سے ملے اور اس سے پوچھا کہ بات کیا ہے؟ اس نے کہا بات یہ ہے کہ اس انگریز نے پھر درخواست دے دی ہے کہ یہ زمین بھی میرے مطالبے میں شامل ہے ۔ پھر