خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 196

1953ء 196 خطبات محمود پھر مہینوں گزرے اور اس کا کوئی جواب نہ آیا ۔ جب بہت دیر ہوگئی تو ہم نے اپنا آدمی بھجوایا کہ پتا تو لو کہ بات کیا ہوئی ؟ جب وہ متعلقہ افسر سے جا کر ملا تو اس نے کہا کہ آپ کی درخواست تو پہنچ چکی ہے ۔ مگر ابھی ہم سوچ رہے ہیں ۔ مجھے جب یہ جواب ملا تو میں حیران ہوا کہ سارے سندھ میں زمین تقسیم ہو رہی ہے لیکن ہماری درخواست کا کوئی فیصلہ ہونے میں ہی نہیں آتا اور کہا جاتا ہے کہ ابھی غور ہو رہا ہے آخر یہ غور کبھی ختم بھی تو ہونا چاہیے ۔ مگر اس جواب پر ہم نے پھر انتظار کیا ۔ مگر جب کچھ مدت تک کوئی جواب نہ ملا تو میں نے پھر اپنا آدمی بھیجوایا کہ جا کر پتا لو کہ ہماری درخواست کا کیا بنا؟ اُسے پھر یہی جواب دیا گیا کہ سوچ رہے ہیں ۔ تب میرے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ ان لوگوں کو زمین دینے میں جو تر ڈو ہے اور ہماری درخواست کو پیچھے ڈالا جا رہا ہے اس میں ضرور کوئی بات ہے۔ پنجاب کے گورنر سرا ڈوائر جو ریٹائر ہو کر ولایت جا چکے تھے اُن سے چونکہ دورانِ ملازمت میں واقفیت تھی اس لئے خیال ہوا کہ اُن کو لکھا جائے کہ مسٹر ڈو سے جو سندھ کی زمینوں کے افسر تھے اور اُس وقت چھٹی پر انگلستان گئے ہوئے تھے پوچھ کر حقیقت بتائیں ۔ چنانچہ میں نے انگلستان کے مبلغ کو لکھا کہ اس اس طرح واقعہ ہوا ہے۔ تم سرا ڈوائر سے ملو اور انہیں کہو کہ ہمارے معاملہ کو اس طرح پیچھے ڈالا جا رہا ہے۔ اس وقت اتفاقاً نا قاد و صاحب بھی و وہیں موجود ہیں آپ اُن سے ملکر ہمیں بتائیں کہ اس میں روک کیا ہے اور کیوں ہماری درخواست کو منظور نہیں کیا جاتا۔ اُس وقت انگلستان میں جو ہمارے مبلغ تھے اُن کی اتفاقاً جارج لائڈ سے بھی واقفیت تھی جنہوں نے بیرج ورکس کی سکیم نکالی تھی اور جو کچھ سال پہلے بمبئی کے گورنر تھے۔ چنانچہ انہوں نے ایک طرف تو میرا پیغام سرا ڈوائر کو دیا اور دوسری طرف خود جارج لائڈ سے ملے اور اسے کہا کہ ڈو آیا ہوا ہے آپ اُس سے مل کر پتالے دیں کہ ہماری درخواست کو کیوں منظور نہیں کیا جاتا۔ چونکہ لارڈ جارج لائڈ سے ہمارے مبلغ کے تعلقات معمولی تھے اُس نے صرف اتنا کہہ دیا کہ میں نے ڈو سے آپ کی بات کہہ دی ہے اور وہ اس کا خیال رکھے گا۔ لیکن سرا ڈوائر چونکہ پنجاب رہ چکے تھے اور ہمارے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے تھے انہوں نے ہمارے مبلغ سے کہا کہ گو مسٹر ڈو نے مجھے آپ کو یہ بات بتانے سے منع کیا ہے مگر چونکہ میرے آپ لوگوں سے گہرے تعلقات ہیں اس لیے میں وہ بات چھپا نہیں سکتا اور صاف صاف کہہ دیتا ہوں ۔ کہ وہ زمین آپ کی جماعت کو نہیں مل سکتی وہ انہوں نے انگریزوں کو