خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 150

$1953 150 خطبات محمود دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہ بات ٹھیک ہے۔لیکن دوسری باتوں کو جو اُس کے عقائد کے خلاف ہوتی ہیں وہ غلط کہہ دیتا ہے۔مثلاً ایک یہودی کو تم کہو کہ ہم کو رنہیں کھاتے تو وہ کہے گا مسلمان بڑے اچھے ہیں۔ایک ہندو کو اگر کوئی شخص کہے کہ وہ گائے کا احترم کرتا ہے تو وہ کہے گا یہ بڑا اچھا آدمی ہے ہے۔حالانکہ وہ اور دوسرے لوگ سور کے گوشت کی حقیقی حرمت کو سمجھ نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ سور کا گوشت حرام ہے اس لیے ہم اسے مان لیتے ہیں۔اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت کی نہیں سینکڑوں سالوں کے بعد اب ڈاکٹروں نے یہ بات نکالی ہے کہ سور کا گوشت کھانے کی وجہ سے انتڑیوں میں ایک قسم کا کیڑا پیدا ہو جاتا ہے جس سے انسانی صحت خراب ہو جاتی ہے۔یا ایک لمبے عرصہ کے بعد ہم نے بعض اخلاقی باتیں معلوم کی ہیں کہ سور میں بعض خرابیاں پائی جاتی ہیں جو لازماً گوشت کھانے والوں میں بھی سرایت کر جاتی ہیں۔لیکن یہ ایسی دلیلیں نہیں کہ انہیں ہر شخص مان لے۔ان باتوں سے ہزاروں لاکھوں لوگ اختلاف رکھتے ہیں اور انہیں محض وہم سمجھتے ہیں۔وہی ڈاکٹر جنہوں نے بڑی تحقیقات کے بعد یہ لکھا ہے کہ سور کا گوشت کھانے کی وجہ سے انتریوں کی میں ایک قسم کا کیڑا پیدا ہو جاتا ہے اور اس سے انسانی صحت خراب ہو جاتی ہے صبح و شام سؤر کا گوشت کھاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ بات درست ہے کہ اس کے گوشت سے انسانی صحت خراب ہوتی ہے۔لیکن وہ کونسی چیز ہے جس سے انسان کو ضر ر نہیں پہنچتا۔اگر کسی چیز سے کسی انسان کو ضرر پہنچتا ہے تو کیا ہم اپنی غذا اس خیال سے چھوڑ دیں؟ شراب کو لے لو۔شراب کے متعلق ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن لکھنے والے خود شراب پیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو وہ وحشیوں کے متعلق لکھا تھا۔وہ کثرت سے شراب پی لیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں نقصان ہوتا ہے۔ویسے اگر ہم شراب بالکل استعمال نہ کریں تو ہم میں طاقت باقی نہیں رہتی۔مسلمانوں کو لے لو۔ان کی بھی یہی حالت ہے۔ایک لارڈ مسلمان ہوا اور لوگوں نے اُس سے کہا کہ سور کا گوشت اور شراب حرام ہے۔تو وہ کہنے لگا محمد رسول اللہ ہے گرم ملک کے رہنے والے تھے اس لیے آپ نے شراب اور سور کے گوشت کو حرام قرار دے دیا۔اگر آپ سرد ملک کے ہوتے تو آپ خود کہتے کہ شراب اور سؤر استعمال کرو۔اب دیکھو شراب اور سور کے خلاف دلیل خود ایک مسلمان انگریز کی سمجھ میں بھی نہ آسکی۔