خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 149

$1953 149 خطبات محمود چور کا چہرہ اس کے دماغ پر عکس ہو گیا۔اس واقعہ پر کئی سال گزر گئے۔ایک دن اتفاقاً وہ عورت گھر سے باہر گلی میں بیٹھ کر چرخہ کات رہی تھی اور دوسری بعض عورتیں بھی اُس کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھیں کہ وہی چور پاس سے گزرا۔وہ بالکل نگ دھڑنگ تھا۔اس کے جسم پر سوائے لنگوٹی کے کوئی کپڑا نہیں تھا۔رفاہت 1 اور آرام کے آثار اُس کے جسم پر نہیں تھے۔جب وہ چور اُس عورت کی کے پاس سے گزرا تو اُسے اُس کی شکل یاد آ گئی۔چور چند ہی قدم آگے گزرا تھا کہ اُس عورت نے اُسے آواز دی اور کہا بھائی ! میری بات سننا۔چور کو سونے کے کڑوں کا واقعہ یاد تھا اس لیے جب اُس عورت نے آواز دی تو وہ دوڑا۔اُس عورت نے پھر آواز دی اور کہا میں تمہیں کچھ نہیں کہتی۔میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میرے ہاتھ میں پھر سونے کے کڑے ہیں اور تمہاری وہی لنگوٹی کی لنگوٹی ہے۔پس یہ چیزیں آتی ہیں اور بدل جاتی ہیں۔پھر نامعلوم انسان کیوں ان چیزوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ دیتا ہے اور بد دیانتی ، فریب اور دھوکا بازی میں لگ جاتا ہے۔میں نے پچھلے کئی خطبوں میں ربوہ والوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ پہلے اپنی اصلاح کی کریں اور پھر دوسروں کی اصلاح کریں۔میں نہیں جانتا کہ میرے ان خطبوں کا ربوہ کے رہنے کی والوں پر کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں۔اور ان کے نتیجہ میں ربوہ والوں نے اپنی کوئی اصلاح کی ہے یہ نہیں۔بظاہر کوئی اثر نہیں ہوا۔اور میرے پاس اس قسم کی کوئی رپورٹیں نہیں آئیں جن سے معلوم ہو کہ میرے خطبوں کے بعد یہاں کے رہنے والوں کے اندر کوئی احساس پیدا ہوا ہے یا کوئی تغیر پیدا ہوا ہے۔پس میرا اثر یہی ہے کہ میری بات اُسی طرح گزرگئی ہے جیسے چکنے گھڑے پر سے پانی گزری جاتا ہے۔حالانکہ تم اخلاق فاضلہ کے بغیر کوئی چیز دوسرے لوگوں کے سامنے پیش نہیں کر سکتے۔صرف اخلاق فاضلہ ہی ایک ایسی چیز ہیں جو دنیا دیکھ سکتی ہے۔بہت سی نیکیاں ایسی ہیں جو دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے۔جیسے بعض مادی چیزیں ایسی ہیں جو لوگ نہیں دیکھ سکتے۔مثلاً گرمی ہے۔گرمی کو ی جسم محسوس کرتا ہے لیکن آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی۔خوشبو ہے اسے ناک سونگھتا ہے لیکن کان اسے سن نہیں سکتے۔آواز ہے کان اسے سنتے ہیں لیکن ناک اسے سونگھتا نہیں۔ہاتھ اُسے چھوتا نہیں ، آنکھ اسے دیکھتی نہیں۔غرض مختلف چیزیں ہیں جو مختلف حواس سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔اسی طرح انسانی اعمال اور عقائد میں سے عقائد کوکوئی شخص دیکھ نہیں سکتا۔جب اپنے عقائد کی عینک سے وہ کسی چیز کو