خطبات محمود (جلد 34) — Page 148
$1953 148 خطبات محمود حتاج بھی ہو اور جہاں کہیں تم جاؤ تم ان اثرات سے بچ بھی نہیں سکتے۔اسی طرح دنیا میں تکلیفوں کی اور دکھوں کے زمانے آتے ہیں۔جہالتوں اور علم کے زمانے آتے ہیں۔حکومتوں اور غلامی کے زمانے آتے ہیں۔مخالفتوں اور صلح کے زمانے آتے ہیں۔اور یہ چیز میں بدلتی چلی جاتی ہیں۔لیکن انسان کا خدا نہیں بدلتا۔وہ جس طرح ہے اُسی طرح چلتا چلا جاتا ہے۔پس انسان سمجھ سکتا ہے کہ الہی تعلق اور الہی ضرورت ان چیزوں سے مقدم ہے جو بدلنے کی والی ہیں۔جس طرح سورج اور چاند مقدم ہیں گرمی اور سردی سے ، دن اور رات سے۔اسی طرح مصیبتیں اور دُکھ ، خوشیاں اور غمیاں ، راحتیں اور رنج ، ترقیاں اور تنزل، یہ سب چیزیں ماتحت ہیں۔یہ سب چیزیں تابع ہیں خدا تعالیٰ کی ذات کے۔جس طرح انسان دن اور رات ، سردی اور گرمی کو تو بدل سکتا ہے مگر وہ سورج کو نہیں بدل سکتا۔اسی طرح انسان خوشی اور رنج ، تکلیف اور سکھ کو کی بدل سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے تعلق کو نہیں بدل سکتا۔لیکن افسوس ہے کہ لوگ ان حکمتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔اور وہ اُن چیزوں کے پیچھے جو بدل سکتی ہیں یا بدلی جاسکتی ہیں اور جو عارضی اور ہے غیر مستقل ہیں لگے رہتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی چیزوں مثلاً راستی ، دیانت محنت اور پستی کو چھوڑ دیتے ہیں۔اور جھوٹ ، بے ایمانی ، کینہ، کیپٹ ، دھوکا بازی، اور فریب کو لے لیتے ہیں۔اور پھر کہتے ہیں ان سے ضرورت پوری ہوتی ہے۔حالانکہ وہ ضرورت بھی عارضی ہوتی ہے اور وہ پورا ہونا بھی عارضی ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ اُن کے گاؤں میں کوئی عورت تھی جو بیوہ تھی اور سارا دن محنت کر کے وہ اپنا پیٹ پالتی تھی۔وہ دن بھر سُوت کا تی تھی اور پھر اُس سوت کو بیچ کہ اُس کی قیمت سے گزارہ کرتی اور کچھ رقم جمع بھی کرتی رہتی۔اُسے سونے کے کڑوں کا بڑا شوق تھا۔وہ دس بارہ سال تک رقم جمع کرتی رہی اور اُس رقم سے اُس نے کڑے بنوائے۔ایک دن ایک چور اُس کے گھر آیا اور اُس نے زبردستی سے اور اُسے ڈانٹ ڈپٹ کر سونے کے کڑے اُتر والئے۔چونکہ وہ غریب عورت تھی اور اُس نے بڑی محنت سے ایک رقم جمع کر کے سونے کے کڑے بنوائے تھے۔اس لیے کڑے اترواتے وقت بڑی چھینا جھپٹی ہوئی۔اُس نے لازماً چور کے مقابلہ میں زور لگایا اور چور کو کڑے اُتروانے میں دیر لگی اس لیے اُسے چور کی شکل کی شناخت زیادہ ہوگئی۔اور