خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 145

1953ء 145 خطبات محمود دوسرا شخص اُس کے گھر کی حفاظت کرے گا۔ یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک نیم پاگل کو بھی اگر سمجھاؤ کہ اگر تمہیں اپنی جان بچانے کا شوق ہے تو دوسرے شخص کو اپنی جان بچانے کا خیال کیوں نہ ہوگا ۔ تو وہ یہ بات سمجھ جائے گا۔ پھر اگر وہ شخص بھی چلا جائے تو تجارت اور مکان کی حفاظت کے لیے وہاں کون رہے گا ۔ یہ سوچنے والی بات تھی۔ لیکن تمہارا دماغ خراب تھا ۔ تمہیں فکر کرنے کی عادت نہیں تھی۔ تم نے پاگلوں کی سی حرکت کی ۔ بلکہ ایک پاگل بھی بعض دفعہ ایسی باتیں سوچ لیتا ہے ۔ ۔ حضرت خلیفة اسبح الاول سے ایک دفعہ ایک رشتہ دار نے دردشکم کی شکایت کی ۔ آپ نے اُس سے کہا کہ تم ذرا لیٹ جاؤ تا میں معلوم کروں کہ تمہارے پیٹ میں شدہ تو نہیں ۔ جب آپ نے اُس کے میں پیٹ کو انگلی سے دبایا تو وہ ہو ہو کر کے اُٹھ بیٹھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل حیران ہوئے کہ اسے کیا ہوا۔ پوچھنے پر اس نے کہا کہ آپ کی توجہ بڑی زبردست ہے۔ جب آپ دبانے لگے تھے تو آپ اگر ذرا زیادہ توجہ کرتے تو انگلیاں میرے پیٹ میں چلی جاتیں۔ غرض اپنے نفع اور نقصان کو سمجھنے کا مجنونا نہ قسم کا مادہ اس کے اندر بھی پایا جاتا تھا۔ لیکن تمہاری یہ حالت تھی کہ تم کچلے جارہے تھے، بڑوں اور چھوٹوں میں تمہارے خلاف جوش تھا۔ لیکن تم میں سے بعض یہ کرتے تھے کہ مکان اور دکان چھوڑ کر بھاگ جاتے تھے اور اُن کے مکان اور اُن کے کاروبار کو نقصان پہنچ جاتا تھا۔ اگر اس حالت میں کسی کے مکان پر دو سو آدمی حملہ کرنے آجائے تو انہیں روکنے والا کون ہوگا۔ اگر تم ہمسایہ سے اُمید رکھو کہ وہ تمہاری جائیداد کی حفاظت کرے تو وہ کہے گا تم بھی چلے گئے تھے اور محض بہانہ بنا کر مجھے اکیلا چھوڑ گئے تھے۔ میں نے بھی تم کو چھوڑ دیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ تمہاری حفاظت کرے اور تم اُس کی حفاظت نہ کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے بھاگنے کی وجہ سے اب تک پچاس ہزار مسلمان عورتیں مشرقی پنجاب میں ہیں۔ اگر مسلمان سوچتے اور دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے تو مشرقی پنجاب میں ایک کروڑ مسلمان تھے۔ ان پر حملہ کرنے کی کسی میں طاقت نہ تھی۔ اگر دشمن حملہ کرتا تو مہینوں لڑائی ہوتی اور اس سے سارے ملکوں میں شور پڑ جاتا اور تمہاری مدد کو غیر ملکی فوجیں بھی آجاتیں۔ اب تو ساری ۔ اب تو ساری قو میں سی بجھتی تھی سی جھتی تھیں کہ کچھ لوگ بے شک مارے جارہے ہیں لیکن دوسرے لوگ بھاگ کر دوسرے علاقہ میں جارہے ہیں اور اس طرح امن قائم ہو رہا ہے۔ ہمارا کیا نقصان ہے۔ امن خراب ہونے کا خطرہ تو تب تھا جب یہ لوگ لڑتے ۔ اب یہ لوگ بھاگ جائیں گے تو امن قائم ہو جائے گا۔ پس تم اپنے اندر غور کرنے کی عادت پیدا کرو اور اپنے ہمسایوں ، دوستوں اور اپنی اولادوں میں