خطبات محمود (جلد 34) — Page 144
1953ء 144 خطبات محمود پر غور کر رہے ہیں لیکن تم بے حس ہو کر بیٹھے ہو۔ یہ ایسی باتیں تھیں کہ اگر تم ان باتوں پر غور کرتے تو ان سے اچھے نتائج پر پہنچتے کیونکہ اُن کے نتائج میں تعصب پایا جاتا ہے ۔ وہ رنگین عینک سے دیکھتے ہیں لیکن تم انصاف سے ان باتوں پر غور کرو گے ۔ اگر تم غور کرتے تو تمہارے نفس کی بھی آہستہ آہستہ اصلاح ہو جاتی ۔ جیسے کوئی شخص اچانک تمہاری طرف انگلی کرے تو تم ڈر جاتے ہو اور پیچھے ہٹ جاتے ہو، تمہیں یہ فکر ہوتا ہے کہ کہیں تمہیں نقصان نہ پہنچ جائے ۔ اسی طرح اگر تم غور کرتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ تمہارا کین، کیٹ ظلم ، چوری، حرام خوری ،فریب اور دھوکا بازی تمہاری قوم کوتباہ کر رہی ہے۔ تم قوموں کی دوڑ میں پیچھے جارہے ہو۔ تم پر کسی قوم کو اعتبار نہیں رہا۔ دنیا میں حکومتیں قائم ہو رہی ہیں لیکن تم حکومت میں آتے ہو تو بے ایمانیاں کرتے ہو۔ تم بے ایمانوں کی روپے اور سفارش سے مدد کرتے ہو۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تمہاری قوم ترقی نہیں کرتی اور دوسری قو میں لازماً تم پر حاکم ہو جاتی ہیں۔ اگر تم غور کرنے لگ جاؤ گے تو لازماً تمہارا نفس ان باتوں سے انکار کرنے لگ جائیگا ۔ آخر وجہ کیا ہے کہ ایک یورپین اور ایک امریکن بے ایمانی نہیں کرتا لیکن تم میں بے ایمانی پائی جاتی ہے۔ تم میں علم قرآن ہے لیکن تم اس پر عمل نہیں کرتے۔ لیکن ایک یورپین اور ایک امریکن اس پر عمل کرتا ہے ۔ وہ قرآن کریم کی خاطر اس پر عمل نہیں کرتا بلکہ اس لئے عمل کرتا ہے کہ اس نے اس پر غور کر لیا ہے۔ فکر کر لیا کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میں بھی تباہ ہو جاؤں گا اور میری قوم بھی تباہ ہو جائے گی۔ اس نے سوچنے کے بعد یہ نکتہ معلوم کر لیا ہے کہ اخلاق فاضلہ کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی اور کوئی فرد قوم کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ پس اُس پر یہ بات حل ہو گئی ہے۔ لیکن تمہیں س بات کا پتا نہیں لگ سکا۔ تم سمجھتے ہو کہ دس روپے کسی سے لے لئے اور پھر اُسے واپس نہ کئے تو کیا ہوا ۔ لیکن تمہیں پتا نہیں ہوتا کہ دس روپے نہ دینے سے تمہاری قوم دس سال پیچھے جا پڑی ہے۔ اور جب قوم دس سال پیچھے جا پڑے گی تو تمہاری نسل سو سال پیچھے جاپڑے گی۔ قوم کی ترقی اخلاق فاضلہ پر منحصر ہے۔ اور تمہاری ترقی تمہاری قوم کی ترقی پر منحصر ہے۔ تم اگر سوچتے تو یورپین اور امریکن لوگوں سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیتے ۔ لیکن حقیقی نتائج پر غور کرنے اور پھر ان پر عمل کرنے کا موقع آتا ہی نہیں ۔ تم کام کے متعلق تقریریں کروگے۔ لیکن جب کام کا موقع آئے گا تو تم لمبی تان کر سو جاؤ گے۔ فسادات ہوئے۔ تمہیں ماریں پڑ رہی تھیں اور مجھے شکایات آ رہی تھیں کہ فلاں شخص گھر چھوڑ کر بھاگ گیا اور اس کی تجارت کو اور اُس کے مکان کو نقصان پہنچ گیا۔ گویا وہ شخص یہ سمجھتا تھا کہ