خطبات محمود (جلد 34) — Page 129
1953ء 129 خطبات محمود اسی طرح وہ اپنے اُس عیب کی اصلاح کر لیتا ہے ۔ جب وہ اپنے وہم سے اس ذریعہ کو بھی مٹا دے تو جو چاہے کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک لڑکی تھی ۔ جواب فوت ہوگئی ہے۔ اُس کی آنکھیں کمزور تھیں ۔ اُس کے والد کثرت سے قادیان آتے تھے اور اکثر ہمارے گھروں میں ہی رہتے تھے۔ اُس کی آنکھ کا پوٹا جھکا ہوا تھا اور وہ بڑی کوشش سے پپوٹے اٹھا کر دیکھ سکتی تھی اور بڑی عمر تک اس کا یہی حال تھا۔ میں نے اسے ادھیڑ عمر تک دیکھا ہے۔ اُسے پہلے سے تو آرام تھا لیکن پھر بھی وہ بڑی مشکل سے دیکھتی تھی۔ چونکہ اُس کی آنکھوں میں نقص تھا اور وہ دوسرے کو دیکھ نہیں سکتی تھی اس لیے وہ بچپن میں سمجھتی تھی کہ لوگ بھی اُسے نہیں دیکھتے۔ اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک ضروری کتاب لکھ رہے تھے۔ آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ بچے آپ کو ستائیں نہیں تا کتاب کا مضمون خراب نہ ہو۔ ہم تو ایسی عمر کے تھے کہ یہ بات سمجھ سکتے تھے۔ میری عمر اس وقت پندرہ سولہ سال کی تھی، * میاں بشیر احمد صاحب دس گیارہ سال کے تھے اور میاں شریف احمد صاحب آٹھ نو سال کے تھے۔ اس لیے ہم تو سمجھ سکتے تھے کہ ہمارے وہاں جانے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام میں حرج واقع ہوگا لیکن ہماری چھوٹی بہن امتہ الحفیظ بیگم جو میاں عبداللہ خاں صاحب سے بیاہی ہوئی ہیں ڈیڑھ دو سال کی تھیں وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتی تھیں۔ اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مٹھائی منگوا کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔ جب امتہ الحفیظ بیگم باتیں شروع کر دیتیں تو آپ انہیں مٹھائی دے دیتے اور وہ باہر آجاتیں ۔ اس طرح آپ اپنے وقت کا بچاؤ کر لیتے تھے ۔ ہماری بہن کا نام تو متہ الحفیظ بیگم ہے لیکن اس وقت بھی بھیجی کہا کرتے تھے۔ اُس لڑکی نے جب یہ بار بار سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ هیچی مٹھائی لے لو تو خیال کیا کہ میں بھی مٹھائی لاؤں ۔ اُس نے خیال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میری طرح دیکھتے تو ہیں نہیں ۔ اس لیے انہیں پتا نہیں لگے گا کہ میں کون ہوں۔ چنانچہ وہ اپنی چھوٹی بہن کو ساتھ لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس گئی اور ہاتھ پھیلا کر کہنے لگی حضرت صاحب جی ! میں بھیجی ہوں مجھے مٹھائی دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے مٹھائی دے دی۔ لیکن بعد میں گھر میں بتایا کہ یہ بجھتی ہے کہ اُس کی طرح ہمیں بھی نظر نہیں آتا۔ اپنی وفات سے کوئی ایک سال پہلے وہ لڑکی کھے