خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 125

1953ء 125 خطبات محمود نہیں ۔ تم سب کو بولنا چاہیے۔ تمہارے ہمسایہ میں آگ لگ جاتی ہے تو تم شور مچاتے ہو کہ آگ لگ گئی، آگ لگ گئی ۔ تم آسمان سر پر اٹھا لیتے ہو۔ اس لیے کہ تمہیں خطرہ ہوتا ہے کہ آگ بڑھ کر تمہارے مکان کو بھی خطرہ میں ڈال دے گی ۔ یہ بھی ایک آگ ہے جو تمہیں جلا ڈالے گی ۔ اور اگر فرض کرو کہ تم میں ابھی بے ایمانی پیدا نہیں ہوئی تو کل کو پیدا ہو جائے گی۔ کیونکہ جب اپنے ارد گرد بے ایمانی دیکھ کر لوگ اُسے برداشت کر لیتے ہیں تو دوسرے لوگ بھی بے ایمان ہو جاتے ہیں۔،، )اصلح 17 جون 1953ء 1 حریرہ بیٹھی اور گاڑھی چیز جو میدے کو کھانڈ میں گھول کر پکائی جاتی ہے۔ (فیروز لغات اردو جامع فیروز سنز لاہور ) 3،2 : وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقره: 186) 4: صحيح البخارى كتاب الصوم باب مَنْ لَمْ يَدَعْ قَول الزور والعمل به في الصوم و هَلْ يَقُوْلُ إِنِّي صَائِمٌ إِذَا شِئْتُمْ 5: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (النساء: 136) مسلم کتاب الايمان باب بيان كون النهى عَنِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْإِيْمَانِ (الخ) 7: كَالشَّاةِ تَبْحَثُ عن سكين جزار ( المستتقصى في امثال العرب الزمخشري باب الكاف مع الالف - جزء 2 صفحہ 206 بیروت 1987ء)