خطبات محمود (جلد 34) — Page 123
$1953 123 خطبات محمود کرو گے۔اور یہ اعتراض درست ہے۔آخر یہ گند کیوں ہوتا ہے؟ یہ گند اس لیے ہوتا ہے کہ تم چوری کرتے ہو۔تم میونسپل کمیٹی کو اُس کے مقرر کردہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔گویا ایک چھوٹی سے چھوٹی بے ایمانی بھی جو تم گورنمنٹ سے کرتے ہو وہ تم پر پڑتی ہے۔اس لیے کہ حکومت افراد سے بنتی ہے اور حکومت کو افراد نے ہی چلانا ہوتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک شخص آیا۔کسی دوست نے اُس کی کے متعلق بیان کیا کہ اس شخص میں بڑا اخلاص ہے۔کیونکہ اس کے پاس یہاں آنے کے لیے کرایہ نہیں تھا یہ بغیر ٹکٹ خریدے یہاں آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیب سے ایک روپیہ نکالا اور ی اُس شخص سے کہا۔یہ چوری ہے۔یہ روپیہ لے لو اور جاتے ہوئے ٹکٹ خرید کر جاؤ۔پس یہ حماقت ہے کہ گورنمنٹ ، میونسپل کمیٹی یا انجمن کی چوری چوری نہیں۔گورنمنٹ ، میونسپل کمیٹی اور انجمن کی چوری بھی کی چوری ہے بلکہ وہ بڑی چوری ہے۔کیونکہ تم اس چوری کے ذریعہ ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو نقصان پہنچاتے ہو۔اگر تم کسی فرد کی جیب سے روپیہ نکالتے ہو تو ہے تو یہ گندی چیز لیکن تم ایک شخص کو نقصان پہنچاتے ہو لیکن اگر ڈاک خانہ، میونسپل کمیٹی ، ریل یا گورنمنٹ کی چوری کرتے ہو تو لاکھوں لاکھ آدمیوں کو نقصان پہنچاتے ہو۔پس تم اپنے اندر ایمانداری پیدا کرنے کی کوشش کرو ورنہ تمہارے روزے روزے نہیں۔تم اگر جسمانی حصہ کو پوا کرتے ہو اور روحانی حصہ کو ترک کر دیتے ہو تو تمہارے روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔ظاہری روزہ سفر میں معاف ہے، بیماری میں معاف ہے، بڑھاپے میں معاف ہے۔لیکن روحانی روزہ نہ سفر میں معاف ہے، نہ بڑھاپے میں معاف ہے اور نہ بیماری میں معاف ہے اور یہ روزہ سچ بولنے ، جھوٹ سے بچنے ، دھوکا، فریب سے بچنے اور حرام کاری نہ کرنے کا ہے۔تم اگر بیمار ہوتے ہو ، یا سفر میں ہوتے ہو تو تمہیں ظاہری روزہ معاف ہو جاتا ہے۔لیکن روحانی روزہ نہ سفر میں معاف ہے نہ بیماری میں۔کیونکہ جھوٹ بولنا، دھوکا دینا، بیماری میں یا بڑھاپے میں معاف نہیں ہو جاتے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں۔مثلا تم پر بڑھاپا آتا ہے اور تم روزہ نہیں رکھتے تو لوگ کہتے ہیں اُس نے روزہ ھے نہیں رکھا تو اچھا کیا ہے فقہاء نے بڑھاپے میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔کیونکہ وہ کہتے ہیں بڑھا پانی بھی ایک بیماری ہے اور بیماری میں روزہ رکھنا منع ہے۔لیکن اگر کوئی شخص بڑھاپے میں جھوٹ بولتا ہے،۔